Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Tawasi bil haq,Tawasi bissabr

Urdu · 18 min

"تواصی بالحق، تواصی بالصبر"۔ 27 اگست 2007 کو میں نے رات میں ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آواز آئی، اس نے کہا کہ اٹھو۔ میں نے کہا کہ میں تو اٹھا ہوا ہوں۔

اس نے کہا، "تواصی بالحق کو جانو"۔ تواصی بالحق کو جانو۔ تواصی بالحق کو جانو۔ میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیا ہے۔

اس نے کہا، "تواصی بالحق کو جانو"۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے بتائیے۔ اس نے کچھ دیر تک مجھے سمجھایا۔ میں نے کہا کہ آپ نے جو کہا، میں اس کو سمجھ نہیں پایا۔

اس نے کہا کہ اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ تواصی بالحق کو سمجھو۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ یہ لفظ نہ میرے مطالعے میں تھا اور نہ مجھے اس کا مفہوم معلوم تھا۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں تواصی بالحق کو کیسے سمجھوں۔

اس میں آپ میری مدد فرمائیں۔ حبیب محمد، حیدرآباد۔ تواصی کا لفظ قرآن کی سورہ نمبر 103 میں آیا ہے۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: "زمانہ گواہ ہے کہ بے شک انسان گھاٹے میں ہے، سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی"۔

History is a witness that man is in loss, except those who believe and do good, and exert on each other truth, and exert on each other patience. قرآن کی اس سورہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ دو صحابی جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو وہ یاد دہانی کے لیے آپس میں اس سورہ کا تذکرہ کرتے تھے۔ عن أبي مدینة الدارمی، وكانت له صحبةٌ قال: "كان الرجلان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا التقيا لم يفترقا حتى يقرأ أحدهما على الآخر"۔ والعصر إن الإنسان لفي خسر.

العصر 2۔ ثم يسلم أحدهما على الآخر. المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث نمبر 5124۔ قرآن کی اس سورہ میں مومنانہ زندگی کا کورس بتایا گیا ہے۔

یہ کورس بنیادی طور پر تین اجزاء پر مشتمل ہے: ایمان، اور عمل، اور تواصی۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی کو شعور کی سطح پر خدا کی معرفت حاصل ہو۔ یہ معرفت ایک انسان کے لیے ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی نے اپنی تلاش کا جواب پا لیا۔

آدمی کو اپنی فکری سرگرمیوں کے لیے صحیح فریم ورک مل گیا۔ آدمی کو ظاہری بصارت کے ساتھ داخلی بصیرت کی روشنی حاصل ہو گئی۔ آدمی کو اپنی ذہنی تگ و دو کا مرکز حاصل ہو گیا۔ آدمی کے اندر اس ہستی کا شعور پیدا ہو گیا جس سے وہ سب سے زیادہ ڈرے، اور جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرے۔

اس کورس کا دوسرا جز عمل صالح ہے۔ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جو عین حقیقت واقعے کے مطابق ہو۔ عمل صالح کی اس فہرست میں ذکر و دعا، عبادات، اخلاق اور معاملات وغیرہ سب شامل ہیں۔ ہر وہ کام جس میں انسان کا جسمانی وجود شامل ہوتا ہے، وہ سب اس کا عمل ہے۔

اور یہ مطلوب ہے کہ ان تمام اعمال کو صالحیت کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی عمل کی دو قسمیں ہیں: ایک خود رخی یعنی سیلف اورینٹڈ عمل، اور دوسرا خدا رخی یعنی گاڈ اورینٹڈ عمل۔ اسلامی شریعت میں خود رخی عمل کا دوسرا نام غیر صالح عمل ہے، اور خدا رخی عمل کا دوسرا نام صالح عمل۔ اس کورس کا تیسرا جز تواصی ہے۔

تواصی میں مشاورت پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے ایک دوسرے کو نصیحت کرنا۔ دو آدمی ایک دوسرے کی خیرخواہی کے جذبے کے تحت سنجیدہ موضوعات پر ایک دوسرے کے ساتھ جو گفتگو کریں، اس کا نام تواصی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ تواصی نام ہے باہمی تبادلہ خیال، یعنی mutual discussion کا۔

دینی موضوعات پر باہمی ڈسکشن کسی موضوع کی کسی مومن کی زندگی کا اسی طرح ایک ناگزیر حصہ ہے جس طرح ایمان اور عمل صالح۔ یہ باہمی تبادلہ خیال یا intellectual exchange ذہنی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ intellectual exchange کے بغیر ذہنی ترقی بالکل ممکن نہیں۔ جب دو آدمی سنجیدگی کے ساتھ ایک موضوع پر تبادلہ خیال کریں تو دو آدمیوں کی گفتگو کے دوران ایک تیسرا تصور emerge کرتا ہے، جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز نکلتی ہے، یعنی چنگاری۔

اسی طرح باہمی تبادلہ خیال دونوں کے لیے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ بنتا ہے۔ اہل ایمان کے لیے تواصی کے اس عمل کا موضوع صرف دو ہے، اور وہ ہے حق اور صبر۔ حق میں تمام مثبت موضوعات شامل ہیں۔ مثلاً قرآن اور حدیث کے گہرے معنی کو سمجھنے کے لیے باہمی تبادلہ خیال کرنا۔

یہ مقصد صرف قرآن کی تلاوت سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور حدیث کو چرچا اور تبادلہ خیال کا موضوع بنا دیا جائے۔ یہ مقصد صرف سنجیدہ ڈسکشن کے ذریعے حاصل ہو سکتا ہے۔ مثلاً ہر گھر میں یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ کبھی کسی نقصان کا تجربہ ہوتا ہے، اور کبھی کسی فائدے کا تجربہ۔

عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ گھروں میں نقصان کے واقعے کو لے کر لوگ منفی انداز میں بولنے لگتے ہیں۔ اسی طرح فائدے کے واقعے کو لے کر خوشی اور فخر کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ایسے موقع پر قرآن کی آیت "لِكَيْلَا تَأْسُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آَتَكُمْ" سورہ نمبر 57 آیت 23۔

کو چرچا کا موضوع بنایا جائے۔ یعنی تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا، اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔ دوسرے الفاظ میں، اگر نقصان کا تجربہ ہو تو اس پر اس انداز سے آپس میں بات کی جائے کہ مایوسی کا احساس لوگوں کے اندر سے ختم ہو جائے۔ اور اگر فائدے کا تجربہ ہو، تب بھی اس پر اس انداز سے باہم گفتگو کی جائے کہ لوگوں کے اندر فخر کے بجائے شکر کا جذبہ پیدا ہو۔

اسی طرح نئے واقعات بھی اس تواصی کا موضوع بن سکتے ہیں۔ مثلاً حال میں چھپی ہوئی ایک کتاب کے اندر یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ مدر ٹریسا، وفات 1997 عیسوی، جو تقریباً 70 سال تک خدا کے نام پر سوشل سروس کرتی رہیں، مگر انہیں اپنے اس عمل کے دوران کبھی سچائی کا تجربہ نہیں ہوا۔ وہ مسلسل طور پر مذہبی اور روحانی اعتبار سے سوہانِ روح، یعنی آگنی، میں مبتلا رہیں۔ ٹائم میگزین، 3 ستمبر 2007 عیسوی۔

اب اس خبر پر آپ باہم ہمدردانہ تبادلہ خیال کریں کہ مدر ٹریسا کے ساتھ یہ ٹریجڈی کیوں پیش آئی۔ تواصی کے عمل کا دوسرا موضوع صبر ہے۔ صبر کوئی انفعالی چیز نہیں، وہ اعلیٰ درجے کا مثبت عمل ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو مسلسل طور پر ناموافق حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔

ایسی حالت میں تواصی بالصبر یہ ہے کہ دو آدمی یا چند آدمی اس پر گفتگو کریں کہ ناموافق حالات کے باوجود کس طرح ایمان اور عمل صالح کی زندگی کی منصوبہ بندی کی جائے۔ میرے تجربے کے مطابق، اس تواصی کا پہلا میدان آدمی کا اپنا خاندان ہے۔ خاندان عورت اور مرد کے اس مجموعے کا نام ہے جن کے درمیان خونی رشتہ، یعنی blood relationship، ہوتا ہے۔ اس دنیا میں سماجی تعلقات کے درمیان سب سے زیادہ طاقتور رشتہ خونی رشتہ ہوتا ہے۔

یہ خونی رشتہ intellectual exchange کے لیے بے حد مفید ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باہمی تبادلہ خیال کے لیے دونوں فریق کے درمیان باہمی موانست بے حد ضروری ہے۔ اور خاندانی افراد کے درمیان یہ موانست کامل درجے میں پائی جاتی ہے۔ صحت مند تبادلہ خیال کے لیے ایک لازمی شرط ہے، اور وہ یہ ہے کہ ساری گفتگو حق اور صبر کے موضوع پر کی جائے۔

دیگر موضوعات سے مکمل طور پر پرہیز کیا جائے۔ دیگر موضوعات، مثلاً نفرت اور شکایت کا چرچا، دنیاوی اہمیت کی چیزیں، اور سطحی موضوعات پر تفریحی باتیں وغیرہ۔ یہ سب اس معاملے میں distraction ہے۔ اور distraction اتنی زیادہ تباہ کن چیز ہے جس کا تحمل ایک حق پرست آدمی کبھی نہیں کر سکتا۔

قرآن میں اہل بیت رسول کے بارے میں ایک آیت آئی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: "يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا" سورہ نمبر 33 آیت 33۔ یعنی اللہ تو چاہتا ہے کہ تم اہل بیت سے آلودگی کو دور کرے، اور تم کو پوری طرح پاک کر دے۔ اس آیت میں بظاہر اہل بیت رسول کا ذکر ہے، مگر یہاں مخصوص ریفرنس، یعنی particular reference، میں ایک جنرل تعلیم دی گئی ہے۔

اس اعتبار سے یہاں ہر صاحبِ ایمان کے اہل بیت مراد ہیں۔ اس آیت میں دو چیزوں کا ذکر ہے: رجس کو دور کرنا اور تطہیر کرنا۔ بظاہر ان دونوں عمل کو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیز ہے جس کو تواصی کہا گیا ہے۔ تواصی کا یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کے لیے کیا۔

اسی طرح ہر اہل ایمان، عورت اور مرد، کو اپنے اہل بیت پر تواصی کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ اہل بیت کی تواصی سے مراد سادہ طور پر خاندان کی اصلاح نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مومن خاندان کے اندر یہ ماحول ہونا چاہیے کہ افرادِ خاندان ایک دوسرے کے ساتھ تواصی میں شریک ہو جائیں۔ ہر گھر میں ایسا ہونا چاہیے کہ لوگوں کے درمیان چرچا یا تبادلہ خیال صرف دو موضوعات پر ہو، یعنی حق کے موضوع پر اور صبر کے موضوع پر۔ ہر خاندان میں یہ ماحول ہو کہ دنیاوی چیزیں ضرورت کے خانے میں ڈال دی جائیں۔

دنیاوی چیزیں اہل خاندان کے درمیان چرچے کا موضوع نہ ہوں، بلکہ چرچے کا موضوع صرف وہ چیزیں ہوں جن کا تعلق دین اور آخرت سے ہو۔ مزید غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہر انسان کے لیے خدا نے اس کے اہل بیت کی صورت میں ایک فطری گروپ فراہم کر دیا ہے، جس کے ذریعے وہ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی عبادت کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے بعد ہر مومن کی ایک اور ضرورت ہے، اور وہ ہے اس کا ذہنی ارتقاء۔ اس ذہنی ارتقاء میں مطالعہ اور مشاہدے کے علاوہ intellectual exchange بہت زیادہ اہم ہے۔

کسی خاندان کے افراد کا سب سے بڑا رول یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے intellectual partner بن جائیں۔ کسی خاندان کے افراد کا سب سے بڑا رول یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے intellectual partners بن جائیں۔ جس طرح کسی اکیڈمی میں کچھ اسکالر ہوں تو وہاں وہ شاپنگ اور آؤٹنگ کی بات نہیں کرتے، بلکہ وہاں وہ سنجیدہ علمی موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ یہی معاملہ ہر مومن خاندان کا ہونا چاہیے۔

مومن خاندان کے ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے جب بھی بات کریں تو وہ صرف علمی اور دینی موضوعات پر بات کریں۔ دوسرے موضوعات کو قصداً وہ اپنے لیے چرچے کا موضوع نہ بنائیں۔ ہر مومن فیملی کو چاہیے کہ وہ باہمی تبادلہ خیال کے ذریعے یہ کوشش کرے کہ کسی فردِ خاندان کے اندر منفی جذبات پرورش نہ پائیں۔ ہر ایک مثبت ذہن کے ساتھ جینے والا انسان بن جائے۔

بچوں کی اصلاح کا بھی یہی سب سے زیادہ کارگر ذریعہ ہے۔ عام طور پر ماں باپ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی خوشی پوری کرتے رہیں، مگر یہ بچوں کے ساتھ محبت نہیں، بلکہ وہ بچوں کے ساتھ دشمنی ہے۔ اس معاملے میں ایک حدیث رسول والدین کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے: "مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِن نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ" الترمذی، حدیث نمبر 1952۔ یعنی کسی والد کی طرف سے اس کی اولاد کے لیے سب سے اچھا عطیہ یہ ہے کہ وہ اس کو اچھے اخلاق اور آدابِ حیات کی تعلیم دے۔

بچوں کی تعلیم و تربیت کا یہ مقصد اس طرح حاصل نہیں ہو سکتا کہ والدین اپنے بچوں کو یہ کرو اور وہ نہ کرو، یعنی do's and don'ts کی زبان میں کچھ ہدایات دیتے رہیں۔ بلکہ یہ مقصد صرف اس طرح حاصل ہو سکتا ہے کہ پورے گھر کے اندر تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا ماحول قائم ہو جائے۔ گھر کے اندر چرچے کا موضوع صرف ایک ہو، اور وہ حق اور صبر ہو۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 181۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.