Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr ka mahina

Urdu · 4 min

صبر کا مہینہ۔ حضرت سلمان فارسی کی ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے، وہ کہتے ہیں کہ شعبان کے مہینے کے آخری دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطاب فرمایا۔ یہ ایک تفصیلی حدیث ہے، اس کے کچھ حصے یہ ہیں: يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ شَهْرٌ مُبَارَكٌ شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ جَعَلَ اللَّهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا مَن تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَسْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ وَمَن أَدَّى فَرِيضَةً فِيهِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ شعب الإيمان للبیہقی، حدیث نمبر 3336۔ یعنی: اے لوگو!

ایک عظیم مہینہ تمہارے لیے آ رہا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ نے اس مہینے کے روزے کو فرض قرار دیا ہے، اور اس مہینے کی رات میں قیام کو تَتَوَّع قرار دیا ہے۔ رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ صبر کا مہینہ کا مطلب ہے مشقت کا مہینہ۔

رمضان کے مہینے میں آدمی کو اپنے معمولات کو توڑنا پڑتا ہے۔ اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ پیاس کے باوجود پانی نہ پیے، اور بھوک کے باوجود کھانا نہ کھائے۔ وہ اپنی خواہشات یعنی desires کو کنٹرول میں رکھے۔ رمضان کو اگر درست طور پر گزارا جائے تو پورا کا پورا مہینہ مشقتوں کا مہینہ بن جائے گا۔

سچے روزے دار کے لیے رمضان کا مہینہ مسلسل صبر کا مہینہ ہے، دن کے اوقات میں بھی اور رات کے اوقات میں بھی۔ جو عمل صبر کی قیمت پر کیا جائے، وہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قیمتی عمل ہوتا ہے۔ عام حالات میں انسان جو عمل کرتا ہے، اس میں اس کی شخصیت کا صرف جزئی حصہ شامل ہوتا ہے۔ لیکن جس عمل کو انجام دینے کے لیے صبر کرنا پڑے، اس میں آدمی کی پوری شخصیت فعال یعنی active طور پر شامل ہو جاتی ہے۔

یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ عام عمل کے مقابلے میں صابرانہ عمل کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، اور اس بنا پر اس کی جزا بھی۔ رمضان کو پانے والا وہ ہے جس کے لیے رمضان کا مہینہ حقیقی معنوں میں صابرانہ زندگی کی تیاری کا مہینہ بن جائے۔ ایسی صابرانہ زندگی جو پورے سال کے لیے آدمی کو صبر کے راستے پر قائم رکھنے والی بن جائے۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 180۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.