Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Adjustment ka formula

Urdu · 4 min

ایڈجسٹمنٹ کا فارمولا مرد کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایگوئسٹ ہوتا ہے، عورت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایموشنل ہوتی ہے۔ یہ دونوں صفتیں پیدائشی صفتیں ہیں، ان کو بدلنا کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔ اگر آپ اس حقیقت کو جان لیں تو آپ کے لیے عورت اور مرد دونوں کے ساتھ معاملہ، یعنی ڈیل کرنا، آسان ہو جائے گا۔ اس کا مختصر فارمولا یہ ہے کہ مرد کے ایگو کو ٹچ نہ کیجیے، اور عورت کے ایموشن سے نہ ٹکرائیے۔

یہی فارمولا خاندانی زندگی میں بھی کارآمد ہے اور سماجی زندگی میں بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں معاملات ہمیشہ ٹکراؤ کی بنا پر بگڑتے ہیں۔ ٹکراؤ سے اعراض کرنا ہی پر عافیت زندگی کا واحد کامیاب فارمولا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور فارمولا عملی طور پر اس دنیا میں ممکن نہیں۔

اس فارمولے کو ایک لفظ میں ٹکراؤ مینجمنٹ، یعنی کانفلکٹ مینجمنٹ، کہا جا سکتا ہے۔ ٹکراؤ سے اعراض کرنا صرف ایک اخلاقی معاملہ نہیں، بلکہ یہ خود اپنی تعمیر، یعنی سیلف ڈیولپمنٹ، کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جب آپ ٹکراؤ سے بچتے ہیں تو نتیجے کے اعتبار سے اس کا دوسرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا وقت بچایا، آپ نے اپنی توانائی بچائی، آپ نے اپنا مال بچایا، آپ نے اپنے آپ کو اس قابل بنایا کہ کسی وقفے کے بغیر اپنی زندگی کا سفر جاری رکھیں۔ آپ غیر ضروری طور پر ذہنی تناؤ، یعنی ٹینشن، کا شکار نہیں ہوئے۔

آپ نے اپنے ذہن کو کامل طور پر مثبت سوچ کے لیے فارغ رکھا، وغیرہ۔ کامیاب زندگی 50% خود اپنے استعمال کا نام ہے، اور 50% دوسروں سے موافقت، یعنی ایڈجسٹمنٹ، کرنے کا نام ہے۔ یہ ایک اٹل فطری قانون ہے، اس میں کسی کا کوئی استثنا نہیں۔ کامیابی کے لیے دونوں ہی چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں۔

جو انسان اس تقسیم پر راضی نہ ہو، اس کو اپنے لیے ایک اور دنیا کی تخلیق کرنا چاہیے، کیونکہ موجودہ دنیا میں اس کے سوا زندگی کی کوئی اور صورت ممکن نہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 179۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.