Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr be amali nahi

Urdu · 4 min

صبر بے عملی نہیں؛ قرآن میں صبر کی غیر معمولی عظمت بیان ہوئی ہے۔ مثلاً صبر کو اول العزم پیغمبروں کا طریقہ بتایا گیا ہے، سورہ نمبر 46 آیت 35۔ صبر پر اعلیٰ ترین کامیابیوں کی بشارت ہے، سورہ نمبر 7 آیت 137۔ صبر قیادتِ عالم کا زینہ ہے، سورہ نمبر 32 آیت 24۔

صبر حفاظت کا یقینی ذریعہ ہے، سورہ نمبر 12 آیت 90۔ حتیٰ کہ صبر وہ چیز ہے جو آدمی کو بے حساب اجر کا مستحق بناتا ہے، سورہ نمبر 39 آیت 10۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی معاملے میں دیکھو کہ تم اس کو بدلنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہو تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ خود اس کو بدل دے۔ إذا رأيتم أمراً لا تستطيعون تغييره فاصبروا حتى يكون الله هو الذي يغيره.

المعجم الکبیر، للطبرانی، حدیث نمبر 7685۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے اپنی زندگی کا خیر صبر ہی کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ وجدنا خير عيشن بالصبر الزهد لوقي ابن الجراح جلد 1، صفحہ 449۔ ابن حجر الاسقلانی نے صبر کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صبر تمام اچھے اخلاق کا جامع ہے۔

فالصبر جامع لمكارم الأخلاق فتح الباری، جلد 11، صفحہ 305۔ صبر نہ بزدلی ہے اور نہ وہ بے عملی ہے؛ صبر ایک مثبت قدر ہے۔ صبر بلند ترین ذہنی حالت ہے، صبر سب سے بڑا عمل ہے۔ صبر انسانیت کا تکمیلی درجہ ہے۔

آپ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں، کچھ لوگ آتے ہیں اور آپ کے خلاف اشتعال انگیز نعرہ لگا دیتے ہیں۔ اب آپ کے لیے ردعمل کے دو مختلف طریقے ہیں: ایک یہ کہ آپ نعرے کو سن کر بھڑک اٹھیں، آنے والوں کے ساتھ جھگڑنے لگیں، یہ بے صبری کا طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اشتعال انگیز نعرے کو سنیں مگر آپ اس پر مشتعل نہ ہوں؛ آپ کا ذہن بدستور اعتدال کی حالت پر باقی رہے۔ آپ اپنے جذبات کو تھام کر یہ سوچیں کہ ایسے موقع پر آپ کو کیا کرنا چاہیے۔

یہ دوسرا طریقہ صبر کا طریقہ ہے۔ بے صبری بھی عمل ہے اور صبر بھی عمل ہے؛ دونوں میں سے کوئی بھی بے عملی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بے صبر آدمی فوری جذبات کے تحت اقدام کر بیٹھتا ہے، خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ اس کے برعکس صبر والا آدمی سوچ سمجھ کر اور مشورہ کر کے اپنے اقدام کا فیصلہ کرتا ہے۔

بے صبری کی روش تباہی کی طرف لے جاتی ہے، اور صبر کی روش کامیابی کی طرف۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 162۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.