Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr deen ka khulaasa

Urdu · 4 min

صبر دین کا خلاصہ ہے۔ صبر دین کا خلاصہ ہے۔ صبر ہر قسم کی نیکیوں کی بنیاد ہے۔ صبر دنیا میں کامیابی کا زینہ ہے، اور آخرت میں وہ جنت کی کنجی ہے۔

قرآن میں صبر کے بارے میں ایک ایسی آیت ہے جو کسی بھی دوسرے عمل کے بارے میں نہیں۔ فرمایا کہ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ إنما يوفّ الصابرون أجرهم بغير حساب. سورہ نمبر 39 آیت 10۔

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وما أُعطي أحدٌ عطاءً خيرًا وأوسع من الصبر. صحیح البخاری، حدیث نمبر 1469۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1053۔ یعنی: صبر سے بہتر اور صبر سے بڑا کوئی عطیہ انسان کو نہیں دیا گیا۔

ابن حجر الاصغلانی نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: الصبر جامعٌ لمكارم الأخلاق. فتح الباری، ابن حجر، جلد 11، صفحہ 305۔ یعنی: صبر تمام اعلیٰ اخلاقیات کا جامع ہے۔ احادیث و آثار میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ صبر کی حیثیت ایمان میں وہی ہے جو حیثیت انسانی جسم میں سر کی ہے۔ الصبر من الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد. الزہد الوکیل، ابن الجراح، حدیث نمبر 199۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ: عاقبة الصبر الجميل جميلة.

سید الخاطر، جلد 1، صفحہ 402۔ یعنی: صبر جمیل کا انجام بھی جمیل ہے۔ ابن منظور نے لکھا ہے کہ: أصل الصبر الحبس، والصبر نقيض الجزع. لسان العرب، جلد 4، صفحہ 438۔

یعنی: صبر کی اصل رکنا ہے۔ صبر بے چین اور بے برداشت ہونے کا الٹا ہے۔ راغب الاصفہانی نے لکھا ہے کہ: الصبر الإمساك، والصبر حبس النفس على ما يقتضيه العقل والشرع. المفردات الراغب الاصفہانی، جلد 1، صفحہ 273۔

یعنی: صبر کی حقیقت امساک، یعنی پوری قوت سے کنٹرول کرنا ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی عقل اور شریعت کے تقاضے کے مطابق اپنے آپ کو روکے۔ صبر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے؟ اس کی وجہ موجودہ دنیا کی صورتحال ہے۔

یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اسی امتحان یا آزمائش کی مصلحت کی بنا پر یہاں ہر شخص کو پوری آزادی دی گئی ہے۔ یہ انسانی آزادی خود خدا کے منصوبے کے تحت ہے، اس لیے کوئی بھی اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 161۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.