اردو کے ایک مرثیہ گو نے قدیم زمانے میں حضرت حسین اور ان کے خاندان کے لوگوں کے سفر کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا تھا کہ خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین کو مختصر کر کے ان کا راستہ آسان بنا دو، طنابیں کھینچ کر کم کر زمین کو، کہ "ہوئے راہ کم ان مہ جبیں کو"۔ آج اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے لیے زمین کی طنابیں کھینچ کر سفر کو مختصر بنا دیا ہے، یعنی جدید وسائل کے ذریعے فاصلوں کو کم کر دیا ہے۔ مثلاً ہوائی جہاز کی سواری آج بہت زیادہ عام ہو چکی ہے، اس لیے لوگوں کو اس کے غیر معمولی پن کا احساس نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی جہاز اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔
ہوائی جہاز نے آج لمبے سفروں کو ہر آدمی کے لیے ممکن بنا دیا ہے، ورنہ قدیم زمانے میں بہت ہی کم افراد لمبے سفر کا حوصلہ کر سکتے تھے۔ مگر قرآن کے مطابق انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو قابلِ شکر باتوں کو شدت کے ساتھ محسوس کریں اور شکر کے جذبات سے سرشار ہو جائیں۔ سورہ نمبر 34 آیت 13۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 145۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.