Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

(2)Waqiaat-e-shukr

Urdu · 2 min

اردو کے ایک مرثیہ گو نے قدیم زمانے میں حضرت حسین اور ان کے خاندان کے لوگوں کے سفر کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا تھا کہ خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین کو مختصر کر کے ان کا راستہ آسان بنا دو، طنابیں کھینچ کر کم کر زمین کو، کہ "ہوئے راہ کم ان مہ جبیں کو"۔ آج اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے لیے زمین کی طنابیں کھینچ کر سفر کو مختصر بنا دیا ہے، یعنی جدید وسائل کے ذریعے فاصلوں کو کم کر دیا ہے۔ مثلاً ہوائی جہاز کی سواری آج بہت زیادہ عام ہو چکی ہے، اس لیے لوگوں کو اس کے غیر معمولی پن کا احساس نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی جہاز اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔

ہوائی جہاز نے آج لمبے سفروں کو ہر آدمی کے لیے ممکن بنا دیا ہے، ورنہ قدیم زمانے میں بہت ہی کم افراد لمبے سفر کا حوصلہ کر سکتے تھے۔ مگر قرآن کے مطابق انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو قابلِ شکر باتوں کو شدت کے ساتھ محسوس کریں اور شکر کے جذبات سے سرشار ہو جائیں۔ سورہ نمبر 34 آیت 13۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 145۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.