Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Waqiaat-e-shukr

Urdu · 2 min

جولائی 2001 میں میرا ایک سفر سوئٹزرلینڈ کے لیے ہوا۔ ہمارا جہاز 25 جولائی کی صبح کو ٹھیک وقت پر زیورخ، سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا۔ جہاز جب ایئرپورٹ کے قریب پہنچ کر نیچے اترا تو چاروں طرف سرسبز مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ایک خوبصورت دنیا تھی جو گویا فطرت کے سبزہ زار ماحول میں بنائی گئی تھی۔

اس کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا it is like seeing paradise from a distance. مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے ایک نہایت حسین اور معیاری دنیا بنائی، جہاں انسان ابدی طور پر پر مسرت زندگی گزار سکے۔ یہ جنت ہے۔ پھر اس نے ایک اور دنیا موجودہ زمین کی صورت میں بنائی۔

ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انتہائی انوکھا استثنا ہے، جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، یعنی اس دنیا میں جنت کے مشابہ تمام چیزیں رکھ دی گئی ہیں۔ البقرہ، سورہ نمبر 2، آیت 25۔ گویا موجودہ دنیا آخرت کی کامل جنت کا ایک ناقص تعارف ہے۔ یہ دنیا انسان کو اس لیے دی گئی ہے تاکہ وہ اس کے اندر جنت کی ابتدائی جھلک دیکھے، اور پھر اس کا شکر ادا کر کے ابدی جنت کا مستحق بنے۔

اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ سورہ نمبر 14، آیت 7۔ یعنی: اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو جنت کی صورت میں زیادہ دوں گا۔ تعمیر شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 146۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.