ستمبر 1992 کو ایک سفر سے نئی دہلی کے لیے واپسی کے موقع پر میں دبئی میں ٹرانزٹ پیسنجر کی حیثیت سے کچھ دیر کے لیے ٹھہرا تھا۔ دبئی کے ہوائی اڈے پر ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے، وہاں پہنچ کر نماز پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ مسجد کے باہر عربی میں "أماكن الصلاة" اور انگریزی میں "Prayer Room" لکھا ہوا تھا۔ مسجد اللہ کے بندوں کے لیے مامن ہے، اس کے اندر داخل ہو کر ایک خاص طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے۔
مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ وہ اہلِ ایمان کے لیے روحانی پناہ گاہ بھی ہے۔ میں نے سوچا کہ دنیا کے ہر ملک میں اور ہر شہر میں کثرت سے مساجد کی موجودگی مسلمانوں کے لیے ایک غیر معمولی ایڈوانٹیج کی حیثیت رکھتی ہے، وہ یہ کہ وہ پرامن اسلامی تحریک کو مساجد کی بنیاد پر اٹھائیں اور پھر دنیا کے ہر گوشے میں اپنے لیے بنا بنایا مرکز عمل پا لیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 144۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.