← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Waqiaat-e-shukr
Urdu · 5 min
لندن کے ایک سفر، ستمبر 1992 میں، ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ اس کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟ یہ گفتگو رات کے وقت ہو رہی تھی۔
میں نے کہا کہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ دنیا میں اندھیرا چھا رہا ہے۔ اس کو دور کرنے کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟ بظاہر اس وقت اندھیرا ہے، مگر دوسرا اس سے بڑا واقعہ یہ ہے کہ پورا کائناتی نظام اس اندھیرے کو ختم کر کے دوبارہ صبح طلوع کرنے کی طرف متحرک ہے۔ پھر آپ اندھیرے کے خلاف احتجاج کیوں کریں؟
آپ آنے والی صبح کو سوچ کر اللہ کا شکر کیوں نہ کریں؟ میں نے کہا کہ اس دین کے ساتھ اللہ نے محفوظیت الحجر سورہ نمبر 15 آیت 9 کا معاملہ کیا ہے۔ اس معاملے کی نشانیاں آپ ساری تاریخ میں دیکھ سکتے ہیں۔ تیرہویں صدی عیسوی میں تاتاریوں نے اسلام اور مسلمانوں کو مٹانا چاہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ خود تاتاری دین کے خادم بن گئے۔
بیسویں صدی میں اتاترک اور عصمت انانو نے ترکی سے اسلام کو ختم کرنا چاہا، مگر دو نسلوں تک حکومت کی دین کو مٹانے کے لیے ساری طاقت لگانے کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ عصمت انانو 1884 تا 1973 میں انتقال کے وقت کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں یہ عجیب چیز دیکھی کہ ہم نے ترکی میں سیکولرزم کا پودا بویا، مگر جب پھل نکلا تو وہ اسلام تھا۔ یہی معاملہ ہندوستان میں ہو رہا ہے۔ لوگوں کے بیان کے مطابق 1947 سے پہلے ہندوؤں نے انڈیا سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر ساری کوششوں کے بعد یہ حال ہوا کہ 1947 میں غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد 6 کروڑ تھی۔ آج اسی ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً چوگنا ہو چکی ہے۔
میوات میں کچھ جاہل مسلمان تھے جو چوٹیاں رکھتے تھے اور ہندو رسوم مناتے تھے۔ ہندوؤں نے ان کو شُدھی کر کے انہیں دوبارہ ہندو بنانے کی تحریک چلائی۔ اس کے جواب میں مولانا الیاس صاحب نے میواتیوں کی دینی اصلاح کی کوشش شروع کی۔ آج یہ حال ہے کہ نہ صرف میواتیوں کی دینی اصلاح ہوئی، بلکہ مولانا الیاس صاحب کی اٹھائی ہوئی تحریک ایک عالمی اصلاحی تحریک بن گئی۔
بابری مسجد کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ اجودھیا کی مسجد میں ہندوؤں کو داخلے کا موقع اس لیے ملا کہ وہ غیر آباد تھی۔ کیونکہ خانۂ خالی راد یومی گیرت یعنی گھر خالی ہو تو اس میں جن بسیرہ کر لیتے ہیں۔ اس احساس نے دوسری مسجدوں کی آبادی کا ذہن پیدا کیا۔ آج ہندوستان کی 3 لاکھ سے زیادہ مسجدیں مزید بہت زیادہ آباد اور پررونق ہو چکی ہیں۔
پھر جب حالت یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر سازش برعکس طور پر خود اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کا باعث ہوتی ہے، تو ہم کو لوگوں کی سازش پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت؟ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 143۔