ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے برسلز، یعنی بیلجیم، کا میرا ایک سفر ہوا۔ 16 ستمبر 1992 کو فجر کی نماز برسلز کی آخری نماز تھی۔ ناشتے سے فراغت کے بعد اپنے ایک میزبان، ڈاکٹر لیونارڈو، کے ہمراہ ایئرپورٹ کے لیے روانگی ہوئی۔ ضروری کارروائی کے بعد اندر داخل ہوئے تو ایئرپورٹ پر موجود چرچ کے فادر مل گئے۔
انہوں نے ہم کو پہچان لیا، کیونکہ انہوں نے کانفرنس میں ہمیں دیکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں ایئرپورٹ کے احاطے میں ایک مسجد بھی ہے۔ یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ انہوں نے ہمارا شوق دیکھ کر ہم کو مسجد تک پہنچایا۔
ہم نے کچھ وقت اس مسجد میں گزارا۔ یہ ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ لمبائی میں وہ 10 قدم ہے اور چوڑائی میں 7 قدم۔ میں نے یہاں 2 رکعت تحیۃ المسجد پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے جیسے کمزور آدمی کو ایسے زمانے میں پیدا کیا جبکہ مذہبی تشدد دنیا سے ختم ہو گیا ہے۔
حتیٰ کہ غیر مسلم حکومتیں اپنے ہوائی اڈے کے اندر اپنے مسافروں کی سہولت کے لیے مسجدوں کی تعمیر کر رہی ہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 142۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.