اکتوبر 1991 میں مجھے روم اور مالٹا کا ایک لمبا سفر کرنا پڑا۔ مالٹا میں میرا قیام ہوٹل ہالیڈے اِن میں تھا۔ تاریخی اعتبار سے، مالٹا جیسے چھوٹے اور دور دراز مقامات تاریخ کے اس دور کی یاد دلاتے ہیں جبکہ دنیا میں عام طور پر مذہبی جبر کا دور دورہ تھا۔ لوگ حکومتوں کے مذہبی تشدد سے بچنے کے لیے اس طرح کے مقالات پر پناہ لیتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک مسیحی بزرگ نے رومی پکڑ دھکڑ سے بچنے کے لیے مالٹا میں پناہ لی تھی۔ مالٹا کے بارے میں ایک تعارفی پمفلٹ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ یہ چرچ ابتداً 1417 میں تعمیر کیا گیا تھا، اس کے بعد 1694 میں وہ دوبارہ بنایا گیا۔ یہ چرچ سینٹ اگاتھا سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ رومی شہنشاہ ڈیشیس کی تہذیب سے بھاگ کر مالٹا آئے تھے۔
Chapel of Saint Agatha: This church was originally built in 1417 and redesigned by Lorenzo Gaffa in 1694. The church is dedicated to Saint Agatha who—it is said—found shelter in Malta from the persecution of the Roman Empire Decius 249 AD. مذہبی جبر کے اس دور کو اسلام نے ختم کیا، مگر کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ عطیے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، مگر موتی کا اعتراف کرنے والا کوئی نہیں۔ حتیٰ کہ خود مسلمانوں میں بہت سے لوگ اس خدائی واقعے کو اپنے قومی فخر کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں، حالانکہ صحیح یہ تھا کہ اس کو وہ شکرِ خداوندی کے خانے میں ڈالیں۔
تعمیرِ شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 141۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.