6 دسمبر 1990 کو میں کیلیفورنیا، امریکہ میں، جناب صغیر اسلم صاحب کے یہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ مجھے دہلی اپنے آفس میں بات کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ یہ کیلیفورنیا میں صبح کا وقت تھا اور دہلی میں شام کا۔ میں نے صغیر اسلم صاحب سے کہا، انہوں نے اپنے ٹیلی فون پر نمبروں کے بٹن دبائے۔
اس کے فوراً بعد دہلی میں ہمارے دفتر میں گھنٹی بجنے لگی۔ میں نے سوچا کہ جس دنیا میں یہ ممکن ہے کہ کیلیفورنیا کا ایک انسان دہلی کے ایک انسان سے 1 منٹ سے بھی کم وقت میں رابطہ قائم کر لے، اس دنیا میں کیا یہ ممکن نہیں کہ انسان اپنے خالق سے رابطہ قائم کر سکے؟ دل نے کہا کہ یقینی طور پر ممکن ہے، مگر اس کے لیے اسی طرح صحیح تدبیر اختیار کرنی ہوگی جو کیلیفورنیا اور دہلی کے درمیان رابطہ قائم کرنے کے لیے اختیار کی گئی۔ اس رابطے کی ایک شکل یہ بھی تھی کہ ہم مذکورہ نمبروں کا اہتمام نہ کرتے، بلکہ دوسرے غیر متعلق نمبروں پر اپنی انگلیاں مارنے لگتے۔
ایسی حالت میں ہماری کوشش بے فائدہ ہو جاتی۔ اس کے بجائے ہم نے یہ کیا کہ صحیح ترین نمبر معلوم کر کے عین اسی نمبر کے ذریعے ربط قائم کرنے کی کوشش کی۔ ایسا کرتے ہی فوراً ربط قائم ہو گیا۔ اسی طرح خدا سے ربط قائم کرنے کا بھی ایک صحیح نمبر ہے اور ایک غلط نمبر۔
جو شخص خدا سے ربط قائم کرنے کی سنجیدہ خواہش رکھتا ہو، اس کو چاہیے کہ پہلے اس کا صحیح نمبر معلوم کرے۔ ایسا کرنے کے بعد خدا سے اس کا ربط قائم ہونا اتنا ہی ممکن ہو جائے گا جتنا کیلیفورنیا اور دہلی کے درمیان ربط قائم ہونا۔ یہ صحیح نمبر اپنی ذات کو حذف کرنا ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 139۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.