2 دسمبر 1990 کو میں امریکہ میں تھا، وہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے خلیج کے مسئلے کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ اس مسئلے میں میری وہی رائے ہے جو عام طور پر علماء کی رائے ہے۔ علماء کی رائے نہایت تفصیل کے ساتھ آ چکی ہے۔
زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم لوگ تذکیری باتوں پر گفتگو کریں، جن کے بارے میں بہت کم گفتگو کی جاتی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ ابھی ہم لوگوں نے ایک کھانا ختم کیا ہے۔ کھانے کے بعد کے لیے ہمیں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ الحمد لله الذي أطعمني وسقاني وجعلني من المسلمين اس اللہ کا شکر اور تعریف ہے جس نے مجھے کھانا کھلایا، اور جس نے مجھے پانی پلایا، اور جس نے مجھے مسلمانوں میں سے بنایا۔ اس دعا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اس کے الفاظ کو یاد کر لے اور کھانے کے بعد اسے اپنی زبان سے دہرا دے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دعا اپنے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب ہے، نہ کہ محض اپنے الفاظ کے اعتبار سے۔ آپ اگر کسی سے کہیں کہ میرا فلاں ٹیلی فون نمبر ہے، تم اس نمبر پر مجھے کال کر لینا، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ اس گنتی کو یاد کر کے اسے اپنی زبان سے دہراتا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ٹیلی فون سیٹ کے اوپر اس نمبر کو ڈائل کر کے آپ سے ربط قائم کرے۔ یہی دعا کا معاملہ ہے۔
آپ کو چاہیے کہ جب آپ دعا کے یہ الفاظ پڑھیں تو آپ کا ذہن ان کے معنی کی طرف چلا جائے۔ آپ سوچیں کہ خدا نے کس طرح وہ کھانا اور پانی بنایا جو میری بھوک اور پیاس کو مٹائے، اور میری زندگی کی طاقت بنے۔ جب آپ اس طرح سوچیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک عظیم تخلیق کا معاملہ ہے۔ خدا نے کائناتی انتظام کے تحت نان فوڈ کو فوڈ میں تبدیل کیا۔
اس نے نان واٹر کو واٹر میں تبدیل کیا۔ اس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ آپ اس کو کھائیں اور پیئیں، اور وہ آپ کے جسم میں داخل ہو کر آپ کا گوشت اور خون بنے۔ اسی طرح خدا نے آپ کو یہ توفیق دی کہ آپ اپنے نان اسلام کو اسلام میں کنورٹ کریں۔ اس کے بعد ہی یہ واقعہ پیش آیا کہ آپ کے اندر ایک اسلامی شخصیت ایمرج کرے۔
ان عظیم انعامات کا احساس جب لفظوں میں ڈھلتا ہے تو وہ مذکورہ کلمے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 138۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.