نومبر 1990 کو جاپان کے راستے امریکہ کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ ٹوکیو سے لاس اینجلس کے لیے جاپان ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر 62 کے ذریعے روانگی ہوئی۔ یہ 10 گھنٹے کی مسلسل پرواز تھی، جو پوری کی پوری بحرالکاہل کے اوپر طے ہوئی۔ کرہ ارض کا تقریباً 71% حصہ سمندروں سے گھرا ہوا ہے۔
ان میں سب سے بڑا سمندر بحرالکاہل، یعنی Pacific Ocean ہے، متصل سمندروں کو چھوڑتے ہوئے صرف بحرالکاہل تمام سمندروں کا 45% حصہ ہے۔ اس کی اوسط گہرائی 12,925 فٹ ہے۔ ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک اس کا فاصلہ تقریباً 11,000 میل ہے۔ اس عظیم سمندر کے مقابلے میں تمام انسانوں کی مجموعی تعداد ایک چیونٹی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی، مگر یہی انسان اس کے اوپر فاتحانہ پرواز کرتے ہوئے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچتا ہے۔
انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کا یہ کیسا عجیب احسان ہے۔ میں نے نیچے سمندر کی لہروں کو دیکھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے یہ لہریں کہہ رہی ہوں کہ اے انسان، ان احسانات کو سوچ کر تیرے اندر شکرِ خداوندی کا سیلاب امڈ پڑنا چاہیے۔ مگر دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ہو جس نے سمندر کی ان بے تاب لہروں میں اس کے ربانی پیغام کو سنا ہو۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 137۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.