جولائی 1990 میں روس، یعنی سوویت یونین کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ اس سفر پر جانے سے پہلے میں نے چاہا کہ اس مضمون کو دیکھوں جو مولانا امین حسن اصلاحی نے میری طالب علمی کے زمانے میں علامہ موسیٰ جاراللہ روسی 1878 تا 1949 کی بابت لکھا تھا۔ یہ مضمون مولانا امین حسن اصلاحی نے اپنے ماہ نامہ "الاصلاح" میں شذرات کے تحت لکھا تھا۔ میں نے مولانا عبدالرحمن ناصر اصلاحی کو خط لکھا کہ الاصلاح کے مذکورہ مضمون کی فوٹو کاپی روانہ کر دیں۔
خط لکھنے کے چند دن بعد پانچ صفحے کے اس مضمون کی فوٹو کاپی مجھے بذریعہ ڈاک دہلی میں مل گئی۔ واضح ہو کہ دہلی اور سرائے میر، یعنی اعظم گڑھ کے درمیان 800 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے، مگر اس میں شکر کا عظیم الشان سرمایہ موجود ہے۔ یہ انسانی ذہن کی کیسی عجیب خصوصیت ہے کہ 50 سال پہلے کا واقعہ ایک سیکنڈ میں اس کو یاد آ جائے، حالانکہ مجھے یاد نہیں آتا کہ زمانۂ طالب علمی کے بعد دوبارہ کبھی اس کا ذکر آیا ہو۔
پھر ڈاک کا یہ نظام انسان کے لیے کتنی بڑی سہولت ہے۔ اگر موجودہ وسائل نہ ہوں تو مذکورہ مضمون کو حاصل کرنے کے لیے مجھے 1600 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ اس میں غالباً 2 ماہ لگ جاتے۔ پھر فوٹو کاپی کی مشینیں کتنی بڑی نعمت ہیں، جن کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ چند لمحے میں کسی چیز کا، کسی تبدیلی یا فرق کے بغیر، عکس حاصل کر لیا جائے۔
یہ باتیں بظاہر بالکل معمولی ہیں، مگر معمولی چیز کو غیر معمولی چیز کے روپ میں دیکھنے ہی کا نام شکر ہے۔ اگر آدمی جذبۂ شکر کے ابلنے کے لیے انوکھے معجزے کا انتظار کرے، تو وہ کبھی بھی خدا کا سچا شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ موجودہ دنیا میں ایسے اسبابِ شکر کسی کے لیے ظاہر ہونے والے ہی نہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 136۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.