Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Waqiaat-e-shukr

Urdu · 4 min

مئی 1990 میں سینیگال سے نئی دہلی کے لیے بذریعہ جنیوا میری واپسی ہوئی۔ جنیوا سے فرینکفرٹ کے لیے میں نے سوئس ایئر 544 سے اپنا سفر طے کیا۔ راستے میں سوئس ایئر کا میگزین، یعنی سوویسیر گزٹ مئی 1990 کا شمارہ دیکھا؛ اس شمارے میں مصر اور دریائے نیل کے بارے میں ایک مفصل مضمون شامل تھا۔ قدیم مصر میں بتوں کی پرستش ہوتی تھی؛ ان میں سے کچھ بتوں کی تصویریں اس میں دی گئی تھیں۔

ان تصویروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ قدیم مصر کے لوگوں نے بت تراشی میں غیر معمولی کمال حاصل کیا تھا۔ ایک بت کی تصویر کے نیچے بامعنیٰ طور پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: "فرعون کے زمانے میں وہ پوجے جاتے تھے، آج وہ ثقافتی ورثے کا ایک حصہ ہیں۔ " In Farenic times, they were worshipped; today they are part of a cultural patrimony ان الفاظ کی پوری معنویت اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتی جب تک اس میں یہ اضافہ نہ کیا جائے کہ قدیم زمانے میں شرک ساری دنیا میں تہذیبی طاقت بن کر چھایا ہوا تھا۔ توحید کی بنیاد پر ہونے والے اسلامی انقلاب نے اس مشرکانہ غلبے کو ختم کر دیا۔

اگر یہ مشرکانہ غلبہ ختم نہ کیا جاتا تو دنیا میں وہ دور کبھی نہیں آ سکتا تھا جس کو آج سائنسی ترقی کا دور کہا جاتا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: اسلام دورِ جدید کا خالق۔ فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر حفاظتی ہدایت، یعنی سیکیورٹی ایڈوائس، کے عنوان کے تحت دیواروں پر لکھا ہوا تھا کہ اپنے سامان کو رکھوالی کے بغیر نہ چھوڑیں۔ Do not leave your baggage unattended اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہی معاملہ آدمی کو خود اپنے نفس کے ساتھ کرنا ہے۔

ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کا نگراں بنا رہے، ورنہ اس کا نفس اس کو تباہی کے راستے پر ڈال دے گا، اور پھر کوئی چیز اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے والی نہ بن سکے گی۔ 12 مئی کی شام کو فرینکفرٹ پہنچا۔ یہاں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی، اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے جیسے عاجز انسان کے ساتھ نصرت کا خصوصی معاملہ فرمایا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 135۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.