11 مئی 1990 کو ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے میں سینیگال میں تھا۔ اس دوران وہاں کے ایک جزیرہ گوری جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ چھوٹا سا جزیرہ ڈاکار سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ جدید طرز کی مشینی کشتی جب ہم لوگوں کو لے کر سمندر کی موجوں کے اوپر تیزی سے چلنے لگی تو بے اختیار میری زبان پر یہ آیت آ گئی: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا سورہ نمبر 17 آیت 70۔
یعنی: اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی، اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا، اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی۔ جانور اپنے پیروں کے ذریعے زمین پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گھوڑے کی پیٹھ پر سوار کر کے خشکی کا سفر کرایا۔ مچھلیاں اپنی جسمانی محنت سے سمندر میں تیرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو کشتیوں پر بٹھا کر سمندر کی سطح پر رواں دواں کیا۔ چڑیاں اپنے بازوؤں کے ذریعے فضا میں اڑتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ہوائی جہاز پر بیٹھ کر فضا میں اڑنے کا انتظام کیا۔ یہ کیسا عجیب کرمنہ کا معاملہ ہے جو انسان کے ساتھ کیا گیا ہے۔
مگر انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو ان چیزوں کے لیے حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوں۔ محض شین کاف را کو دہرانے کا نام شکر نہیں۔ شکر یہ ہے کہ اعلی اللہ یعنی اللہ کی کائناتی نشانیوں کو سوچ کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں اور پھر زبان سے نکلے کہ خدایا تیرا شکر ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 133۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.