← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Waqiaat-e-shukr
Urdu · 5 min
ایک سفر کے دوران، 4 مئی 1990 کو، میں جرمنی کے فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر ٹرانزٹ پیسنجر کی حیثیت سے اگلی فلائٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ اس درمیان فجر کی نماز کا وقت ہو گیا، تو میں نے ایئرپورٹ پر ہی فجر کی نماز پڑھی۔ ایک جرمن خاتون میری نماز کو غور سے دیکھتی رہی۔ جب میں فارغ ہو کر اٹھا تو اس نے معذرت کے ساتھ پوچھا، "کیا آپ یوگا کا عمل کر رہے تھے؟
" میں نے کہا، "نہیں، میں صلاۃ کا عمل کر رہا تھا۔ " وہ یوگا کو جانتی تھی، مگر وہ صلاۃ کو نہیں جانتی تھی۔ اس نے پوچھا کہ صلاۃ کیا چیز ہے۔ میں نے کہا، "کیا آپ خدا کو مانتی ہیں؟
" اس نے کہا، "ہاں۔ " میں نے کہا، "کیا آپ مانتی ہیں کہ خدا ہمارا خالق اور رب ہے؟ " اس نے کہا، "ہاں۔ " میں نے کہا، "پھر نماز اسی خالق اور مالک کی عظمت اور اس کے احسان کا اعتراف ہے۔
" خدا صبح لاتا ہے، تو ہم جھک کر کہتے ہیں کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے میرے لیے دن کو روشن کیا تاکہ میں کام کروں۔ خدا شام لاتا ہے، تو ہم جھک کر کہتے ہیں کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو میرے لیے رات لایا تاکہ میں آرام کروں۔ اس طرح ہم رات اور دن میں 5 بار خدا کی عظمت اور اس کے انعامات کا اعتراف کرتے ہیں۔ جرمن لیڈی بہت غور سے میری بات کو سنتی رہی۔
اس کے بعد وہ "تھینک یو، تھینک یو" کہتی ہوئی چلی گئی۔ اسی ایئرپورٹ پر ایک جرمن پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ وہ پروفیسر کارل ٹرال کے شاگرد تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کارل ٹرال یونیورسٹی آف بون میں جغرافیہ کے پروفیسر تھے۔
وہ 1899 میں پیدا ہوئے اور 1975 میں وفات پائی۔ وہ اپنے فن میں ممتاز درجہ رکھتے تھے، چنانچہ ان کو جغرافیہ دانوں کی عالمی یونین کا پریزیڈنٹ بنایا گیا: انٹرنیشنل یونین آف جیوگرافرز۔ انہوں نے بتایا کہ 1964 میں وکٹوریہ البرٹ ہال، لندن میں پروفیسر کارل ٹرال کی تقریر تھی۔ اس میں مختلف ملکوں کے ممتاز سائنسدان جمع تھے۔
اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے پروفیسر ٹرال نے کہا کہ سائنسدان کی حیثیت سے ان کی زندگی کا بنیادی تجربہ یہ ہے کہ وہ خالق کے زیادہ سے زیادہ احسان مند ہوتے چلے گئے، اور تخلیقی عمل میں خدا کی عظمت کو دیکھ کر وہ حیران کن احساس سے بھر گئے۔ The basic experience of his life as a scientist has been that he became more and more grateful to the Creator and full of wonders at God's greatness in his works of creation. انہوں نے بتایا کہ پروفیسر کارل ٹرال کے الفاظ پر حاضرین میں سے کسی نے اعتراض نہیں کیا، بلکہ اکثر سائنسدان اٹھ کر ان کے پاس آئے اور اظہارِ مسرت میں ان سے ہاتھ ملایا۔ یہ احساس ان تمام اہلِ علم کا ہے کہ جو نیچر کا مطالعہ کرتے ہیں۔
کوئی جرات مند اس کا اعلان کر دیتا ہے، اور کچھ لوگ اس کو اپنے دل میں لیے ہوئے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ تعمیر شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 131۔