17 مارچ کو میں نے فجر کی نماز دہلی کے ہوائی اڈے پر پڑھی تھی۔ اس دن میں عصر کی نماز کے وقت ترابلس کے ہوائی اڈے پر اتر گیا۔ موجودہ زمانے میں تیز رفتار سواریوں نے سفر کے معاملے کو کتنا زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ ہوائی جہاز اپنے اندر سینکڑوں مسافروں کو بیٹھا کر ہوا میں اڑتا ہے، اور خشکی اور پہاڑ اور سمندر کی ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے نہایت تیز رفتاری کے ساتھ لوگوں کو ان کی منزل پر پہنچا دیتا ہے۔
یہ کتنا حیرت ناک واقعہ ہے! آج بے شمار لوگ اس سفری سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، مگر ان میں شاید ہی کوئی ہو جس کا حال یہ ہو کہ خدا کی اس عظیم نعمت کو سوچ کر اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور وہ استعجاب یعنی اوہ کے سمندر میں غرق ہو کر کہہ اٹھے فَبِأَيِّ آَلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانَ سورہ نمبر 55 آیت 13۔ یعنی: پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ اسی سفر کا واقعہ ہے۔
ایک دن ہوٹل کے تعاون گاہ میں ایک میز پر ہم تین آدمی دن کا کھانا کھا رہے تھے۔ میرے سوا ایک شارجہ کے تھے اور دوسرے مصر کے۔ کچھ دیر بعد ایک اور مصری دکتور آئے، وہ ہماری قریب والی کرسی پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ایک منٹ انتظار کے بعد ہوٹل کے آدمی کو مخاطب کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا: هَلِ الْمُتَأَخِّرُونَ يَأْكُلُونَ أَمْ لَا يَأْكُلُونَ یعنی: بات کو آنے والے کھائیں گے یا نہیں؟
تھوڑی ہی دیر میں آدمی نے کھانے کی پلیٹ لا کر ان کے سامنے رکھ دی، حالانکہ عام حالت میں انہیں دیر میں کھانا پہنچنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ مزاح اکثر حالات میں بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ وہ کھانے کے پورے وقت میں مزاحیہ انداز میں باتیں کرتے رہے۔ اکثر لوگوں کا انداز یہی ہوتا ہے، مگر مجھے ذاتی طور پر یہ انداز بالکل پسند نہیں۔
جس وقت کھانا سامنے رکھا ہوا ہو، وہ انتہائی سنجیدگی کا وقت ہوتا ہے۔ کھانا اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمت ہے۔ یہ وقت وہ ہوتا ہے جب کہ آدمی پر سب سے زیادہ شکر کا جذبہ طاری ہونا چاہیے۔ ایسے موقع پر مزاحیہ کلام شکر کے احساسات کا قاتل ہے۔
دسترخوان کے اوپر سب سے بڑا کلام یہ ہے کہ آدمی خاموش رہے اور اللہ کو یاد کرتے ہوئے کھانا کھائے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 130۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.