Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Waqiaat-e-shukr

Urdu · 3 min

مارچ 1990 میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے تراولز کا میرا ایک سفر ہوا۔ جہاز کا بیشتر سفر خشکی کے اوپر ہوا، بالائی فضا میں پرواز کرتا ہوا ہمارا جہاز ہندوستانی وقت کے لحاظ سے 5 بجے بحر روم کے اوپر پہنچ گیا۔ اس جہاز کو نہ خشکی کی پستی یا بلندی نے روکا، اور نہ سمندر اس کی راہ میں حائل ہوا۔ وہ شہری آبادیوں کے اوپر سے بھی اسی طرح تیزی سے گزر گیا جس طرح کھلے میدانوں کے اوپر سے بے شمار لوگ روزانہ ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں۔

مسافروں کے چہرے اور ان کی گفتگوئیں بتاتی ہیں کہ اس قدرتی معجزے کو سوچ کر کسی کے اندر تموج کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی، مذہبی انسان ہو یا سیکولر انسان۔ دونوں قسم کے لوگ ہوائی جہاز کا سفر تو کر رہے ہیں، مگر ہوائی جہاز کے سفر کے دوران ان کا شعور ربانی مسافت طے نہیں کرتا۔ ان کا حال تقریباً اس چوپائے کا سا ہے جس کو ایک مقام پر جہاز میں بیٹھایا جائے اور لے جا کر اس کو دوسرے مقام پر اتار دیا جائے۔ لارڈ کرزن ایک بے حد مالدار خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔

وہ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان کا بڑے جاہ و جلال کا وائسرائے بنا، مگر 1898 میں جب وہ ہندوستان کا وائسرائے ہو کر روانہ ہوا تو لندن سے کلکتے تک کا سفر طے کرنے میں اس کو 17 دن لگ گئے۔ اس وقت ملک میں ہوائی جہاز کا سفر رائج نہیں ہوا تھا۔ آج ایک عام آدمی ہوائی جہاز میں بیٹھ کر چند گھنٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں پہنچ جاتا ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 129۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.