دسمبر 1988 میں امریکہ میں منعقد ہونے والی ایک انٹرنیشنل سیرت کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ یہ کانفرنس اسلامک سوسائٹی کیلیفورنیا نے منعقد کیا تھا۔ سفر کی تیاری کے آخری دنوں میں ایک مسئلہ پیش آیا: میرے رفیقِ سفر کو نئی دہلی کے امریکی سفارت خانے سے ویزا حاصل کرنے کے لیے ایک تحریر درکار تھی جس میں بتایا گیا ہو کہ امریکہ کے متعلقہ اسلامی ادارے نے ان کو بھی میرے ساتھ کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے۔ مگر وقت اتنا کم تھا کہ ڈاک کے ذریعے سے امریکہ کا خط ہندوستان نہیں پہنچ سکتا تھا۔
تاہم اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے امکانات کو استعمال کر کے جدید انسان نے اس مسئلے کو حل کر لیا ہے۔ چنانچہ امریکہ کے دفتر کو بذریعہ ٹیلی فون ضرورت بتائی گئی، اور ایک گھنٹے کے اندر ان کا دستخط شدہ خط دہلی میں موجود تھا۔ یہ تیز رفتار ترسیل اس آلے کے ذریعے ممکن ہوئی ہے جس کو موجودہ زمانے میں تصویری مشین، یعنی فیکسیملی مشین، کہا جاتا ہے، اور جس کا مختصر نام فیکس ہے۔ آپ ایک تحریر یا ایک خط تیار کر کے مشین میں ڈالیں، اور ایک سیکنڈ کے اندر وہ مطلوبہ مقام پر پہنچ کر ویسا ہی چھپا ہوا نکل آئے گا۔
ابتدائی انسانی دور میں صرف پیدل پیغام رسانی کا طریقہ رائج تھا، پھر گھوڑوں کا استعمال ہونے لگا۔ اس کے بعد ٹیلیگرام، ٹیلی فون، اور ٹیلیکس کے طریقے دریافت ہوئے۔ اب فیکس کے طریقے نے سب پر برتری حاصل کر لی ہے۔ یعنی موجودہ دور میں موبائل اور کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے اس معاملے کو اور بھی آسان کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کتنی زیادہ نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں، مگر کتنے کم لوگ ہیں جو اس کا واقعی شکر ادا کرتے ہوں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 128۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.