Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Waqiaat-e-shukr

Urdu · 3 min

اکتوبر 1988 کو کابل میں ایک کانفرنس ہوئی، اس میں میری ملاقات ڈاکٹر میاں محمد سعید حال مقیم واشنگٹن ہوئی۔ انہوں نے 1962 کا ایک واقعہ بتایا، اس وقت وہ لندن میں تھے۔ لندن یونیورسٹی میں ان کی ملاقات ڈاکٹر پدمہ مسرا سے ہوئی، وہ ایک ہندوستانی خاتون تھیں جو اس لندن یونیورسٹی میں تھیں۔ گفتگو کے دوران ڈاکٹر پدمہ مسرا نے ایک واقعہ بتایا۔

انہوں نے کہا کہ وہ بنارس اور لکھنؤ کے درمیان سفر کر رہی تھیں۔ ان کے ڈبے میں لکھنؤ کی ایک مسلمان عورت بھی تھی جو ایک سیٹ پر اپنی گٹھری رکھے ہوئے بیٹھی تھی۔ اس کے میلے کپڑے بتا رہے تھے کہ وہ کسی معمولی گھر کی ہے، غالباً وہ سبزی فروش گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس دوران میں وہ ایک بار باتھ روم گئی۔

اس کی غیر موجودگی میں ایک کھڑے ہوئے مسافر نے اس کی گٹھری ہٹا دی اور جگہ بنا کر وہاں بیٹھ گیا۔ مذکورہ عورت جب باہر واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کی گٹھری ہٹی ہوئی ہے اور وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ سخت برہم ہو گئی۔ اس نے غصے میں کہا، "نہ رہی نوابی، ورنہ تم کو زندہ دیوار میں چنوا دیتی!

" یہ واقعہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر سعید صاحب نے کہا کہ مسلمانوں سے حکومت چلی گئی، مگر ان کا حاکمانہ مزاج اب تک ان سے نہیں گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ آج جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ پیش آ رہا ہے، وہ سب ان کے اسی مزاج کی قیمت ہے۔ کوئی نعمت آدمی کو ملے تو آدمی کو اس پر شکر کرنا چاہیے، اور جب وہ چھن جائے تو صبر۔

مگر مسلمانوں نے نہ پہلے شکر کیا اور نہ اب وہ صبر کرنے پر راضی ہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 127۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.