12 دسمبر 2003 کو نئی دہلی سے اسپین کے لیے سفر ہوا۔ اسپین پہنچنے کے بعد اشبیلیہ ایئرپورٹ سے شہر کی طرف روانگی ہوئی۔ سڑک کافی چوڑی اور ہموار تھی۔ سڑک کے دونوں طرف جدید طرز کے کھلے ہوئے مکان اور دکانیں نظر آئیں۔
پورا راستہ شاداب اور پررونق تھا۔ یہ وہی شہر ہے جو مسلم دور میں اشبیلیہ کے نام سے مشہور تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر قدیم اشبیلیہ اور جدید اشبیلیہ کو سامنے رکھ کر تقابل کیا جائے تو ایسا معلوم ہوگا کہ پہلے یہ ایک ٹاؤن تھا اور اب وہ ایک ماڈرن شہر ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب اسپین کا حوالہ آتا ہے تو وہ صرف آسمانِ دولتِ غرناطہ جب برباد کی جیسی زبان بولنا جانتے ہیں۔
میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے جبکہ اسپین مسلم عہد کے مقابلے میں آج زیادہ ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ تو اس قسم کی منفی باتیں کیوں؟ میری سمجھ میں آیا کہ موجودہ مسلمان اپنے مزاجی بگاڑ کی بنا پر خود اپنی عظمت پر فخر کرنا تو جانتے ہیں، مگر وسیع تر معنی میں انسانی ترقی سے وہ اپنے آپ کو وابستہ نہ کر سکے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کا ایک مسلمان مغل دور اور عثمانی دور اور اندلسی دور سے سو گنا زیادہ بہتر حالت میں رہتا ہے۔
مگر اپنے اس بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر وہ شکایت اور مایوسی کے سوا کوئی اور زبان بولنا نہیں جانتا۔ ورنہ اس کی زبان مثبت باتوں سے سرشار رہتی۔ وہ سمجھتا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ خدا کے شکر میں جینے والے بن جائیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 125۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.