بمبئی کے سفر نومبر 2004 میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا کہ پہلے زمانے میں آدمی ناہموار راستوں پر اونٹ اور خچر سے سفر کرتا تھا، اس لیے پہلے زمانے میں شکر کی کیفیت پیدا ہوتی تھی۔ اب لوگ موٹر کار اور ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اس لیے اب شکر کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ یہ ناواقفیت کی بات ہے۔ شکر بالفاظِ دیگر ربانی کیفیت کا نام ہے، یہ خداوندِ برتر کے مقابلے میں اپنی عاجزانہ عبدیت کو دریافت کرنا ہے۔
جو لوگ اس احساسِ عبدیت سے خالی ہوں، ان کو نہ پچھلے زمانے میں ربانی کیفیت کا تجربہ ہو سکتا تھا، اور نہ وہ موجودہ زمانے میں اس اعلیٰ کیفیت کا تجربہ کر سکتے تھے جس کو شکر کہا جاتا ہے۔ ایک اور صاحب نے کہا کہ دنیا کی نعمتوں کو کیوں نہ استعمال کیا جائے، اس سے تو خدا کے منیم ہونے کا تصور پیدا ہوتا ہے، اور آدمی خدا کا شاکر بن جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ نعمتوں پر شکر کا یہ بہت ناقص تصور ہے۔ شکر کا اعلیٰ تصور یہ ہے کہ آپ سورج اور چاند کو دیکھ کر شکر گزار بندے بنیں، دریا کی روانی اور ہوا کے جھونکوں میں آپ کو شکرِ خداوندی کا پیغام پہنچ رہا ہو۔
درخت کی ہریالی اور زمین کی گردش آپ کے اندر شکر کا طوفان برپا کر دے۔ حقیقی شکر کا ماخذ ذاتی آرام نہیں، بلکہ قدرتِ خداوندی کی پھیلی ہوئی نشانیاں ہیں۔ یہ بات قرآن کے ہر صفحے پر موجود ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 126۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.