اسپین کا سفر ہوا 11 دسمبر کی رات کو، دہلی سے روانگی ہوئی اور 19 دسمبر 2003 کو سفر سے واپسی ہوئی۔ 12 دسمبر کی صبح کو میں اسپین کی راجدھانی مدریڈ کے ایئرپورٹ پر پہنچ چکا تھا۔ مدریڈ ایئرپورٹ نہایت وسیع اور شاندار ہے، یہاں مسافروں کی سہولت کے لیے ہر قسم کا اعلیٰ انتظام تھا۔ جب میں مدریڈ کے شاندار ایئرپورٹ پر چل رہا تھا تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
میں نے روتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ جو چیز کھوئی گئی وہ اعتراف اور انسانیت کی خیرخواہی ہے۔ اگر ان کے اندر یہ صفت موجود ہوتی تو وہ اس واقعے پر تڑپ اٹھتے۔ وہ یہاں آ کر ان لوگوں سے کہتے کہ ہم آپ کے کارناموں کا اعتراف کرتے ہیں۔ ہم نے انسانی قافلے کو روایتی ترقی کے دور تک پہنچایا تھا۔
آپ نے اپنی محنت سے انسانیت کو سائنسی ترقی کے دور تک پہنچا دیا۔ اور تاریخ میں پہلی بار ایک خوبصورت دنیا تعمیر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ آئیے ہم دونوں مل کر خالق کا شکریہ ادا کریں تاکہ ہم دونوں خدا کی زیادہ بہتر دنیا میں داخلے کے مستحق قرار پائیں۔ وہ معیاری دنیا جس کی صرف ایک جھلک خدا نے آج کی دنیا میں رکھی ہے تاکہ ہم بعد کی زیادہ بہتر دنیا کا پیشگی تعارف حاصل کر سکیں، یعنی وہ دنیا جس کا نام جنت ہے۔
تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 124۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.