29 ستمبر 1993 کو فجر کی نماز برمنگھم کی سنٹرل مسجد، یعنی مرکزی مسجد میں پڑھی۔ اس میں بیک وقت 3,000 آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اب ایک اور مسجد بنائی جا رہی ہے جس میں 5,000 آدمیوں کے لیے گنجائش ہوگی۔ نماز کے بعد ایک مجلس میں میں نے کہا کہ فجر کی نماز کے بارے میں ایک بڑی عجیب حدیث ہے۔
اس کے الفاظ یہ ہیں کہ "من صلى الصبح فهو في ذمة الله" صحیح مسلم، حدیث نمبر 657۔ یعنی جس نے صبح کی نماز پڑھ لی، وہ خدا کی ذمہ داری میں آ گیا۔ گویا فجر کی نماز اللہ کی طرف سے حفاظت کی گارنٹی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی پراسرار بات نہیں، بلکہ ایک ایسی بات ہے جو غور و فکر سے سمجھ میں آتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز آدمی کے اندر وہ صفات پیدا کرتی ہے جس کے بعد آدمی لوگوں کی دستبرد سے محفوظ ہو جائے۔ مثلاً نماز کی چند باتوں کو لیجیے: آپ بستر سے اٹھ کر سب سے پہلے وضو کرتے ہیں۔ وضو گویا ایک علامتی فعل کے ذریعے اس بات کا عزم ہے کہ آپ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے پاک رہیں گے۔ پھر نماز میں بار بار اللہ اکبر کہتے ہیں۔
یہ اس بات کا اظہار ہے کہ آپ اللہ کی بڑائی کے احساس میں جیئیں گے، اور تواضع کی روش اختیار کریں گے۔ پھر آپ ہر رکعت میں الحمدللہ رب العالمین کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ کا شکر کریں گے، جو بھی اللہ نے دیا ہے اس پر قانع رہیں گے۔ آخر میں آپ دونوں طرف رخ کر کے کہتے ہیں کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔
گویا کہ آپ اہل علم کو بتا رہے ہیں کہ ان کے لیے آپ کے دل میں صرف رحمت اور سلامتی کا جذبہ ہوگا۔ صبح کی نماز میں جو لوگ اس قسم کے اخلاق کی تربیت پا کر نکلیں، ان کا یہ اعلیٰ انسانی اخلاق خود ہی ان کی محبوبیت اور حفاظت کی ضمانت بن جائے گا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 123۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.