ستمبر 1993 میں میں برطانیہ میں تھا، وہاں قیام کے زمانے میں مجھے ایک کتاب ملی۔ اس کا نام تھا "مسلمو بورما: حملہ تو عبادی"۔ اس میں برما کے مسلمانوں پر مظالم کی داستان بتائی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ برما کی حکومت وہاں کے مسلمانوں کو فنا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر یہ واقعے کا نصف ثانی ہے۔
اصل یہ ہے کہ برما کے ایک حصے میں مسلمانوں نے علیحدگی کی تحریک چلائی، اس کے نتیجے میں وہ وہاں معطوب ہو گئے۔ اس سے پہلے وہ برما میں امن کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اس سفر میں ایک عرب نوجوان نے ایک رپورٹ پڑھنے کے لیے دی، اس کا عنوان تھا "بریتانیہ: مشکلات المسلمین"۔ اس کے مطابق برطانیہ کا کیس مسلمانوں کے لیے گویا مشکلات کا کیس تھا۔
اس میں برطانی مسلمانوں کی مشکلات کے ذیل میں بغض، سیکولر تعلیمی نظام، نسل پرستی، اور تشدد کو شمار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کہا گیا تھا کہ برطانیہ کے مسلمان اگر ان مشکلات کو حل کر لیں تو یہاں اسلام کے لیے عظیم مستقبل ہے۔ "إن الإسلام في بريطانيا سيكون له مستقبل عظيم إذا تمكنوا من حل المشكلات السابقة" صفحہ 492۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے کہا کہ ان الفاظ میں موجودہ زمانے کے مسلم دانشوروں کی سب سے بڑی غلطی کا راز چھپا ہوا ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل کی تعمیر کا آغاز مشکلات کو ختم کرنے سے ہوتا ہے، حالانکہ مستقبل کی تعمیر کا صحیح آغاز یہ ہے کہ مشکلات کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کیا جائے۔ "زعماء المسلمين يعتقدون أن بناء المستقبل يبدأ من حل المشاكل، والصحيح أن بناء المستقبل يبدأ من الإعراض عن المشاكل واستغلال الفرص" تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 122۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.