Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Waqiaat-e-shukr

Urdu · 3 min

فروری 1994 میں موراکو کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ موراکو کی راجدھانی روبات پہنچنے کے بعد، کل شام کو میں نے اپنے دہلی کے دفتر کو ایک فیکس روانہ کیا تھا۔ آج وہاں سے اس کا جواب آ گیا۔ اس کو دیکھ کر میری زبان سے شکر کا کلمہ نکلا۔

میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسے کیسے وسائل دے دیے ہیں۔ یہ سن کر ایک عرب نوجوان نے کہا کہ آپ ان چیزوں پر شکر ادا کر رہے ہیں، حالانکہ میں نے ایک بڑے شیخ کو ان ذرائع کی مذمت کرتے ہوئے سنا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں ان ذرائع مواصلات کے ذریعے شیطانی باتیں ہر جگہ تیزی سے پہنچائی جا رہی ہیں۔ یہ جدید آلات سب شیطان کے کام ہیں، اور ہمیں ان سے جنگ کرنا چاہیے۔

الْكَلِمَةُ الشَّيْطَانِيَّةُ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ تُرْسِلُ عَنْ طَرِيقِ الْاتِّصَالَاتِ الْمَدِينَةِ وَمِنْهَا الْفَاكسُ إِلَى كُلِّ مَكَانٍ بِسُرْعَةٍ فَهَذِهِ الْأَجْهِزَةُ الْمَنْظُورَةُ كُلُّهَا عَمَلٌ شَيْطَانِيٌّ يَجِبُ عَلَيْنَا مُحَارَبَتَهَا میں نے کہا کہ شیخ نے بڑی عجیب بات کہی۔ یہ جدید ذرائع تو امکانات فطرت کا استعمال ہیں۔ جو چیز بری ہے وہ استعمال ہے، نہ کہ خود ذرائع۔ اور برا استعمال تو لوگ مذہب تک کا کرتے ہیں۔

اس لیے ان کے غلط استعمال کی مذمت کرنی چاہیے، نہ کہ خود ان اشیاء کی۔ اگر تاریخی تبدیلیاں مساعدت کے لیے موجود نہ ہوں تو ایسی ہر تحریک فساد اور خون ریزی پر منتج ہوتی ہے۔ اہلِ اسلام کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کو صرف پرامن دعوتی جدوجہد تک محدود رکھیں، یہاں تک کہ وہ ضروری تاریخی امکانات پیدا ہو جائیں جن کو استعمال کر کے سیاسی انقلاب کے مرحلے تک پہنچنا ممکن ہو جائے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 121۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.