دسمبر 1993 کے اردو اخبار میں، دہلی کے ایک مسلم لیڈر نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 23 دسمبر کو بابری مسجد پر غیر قانونی قبضے کی یادگار منائیں۔ عملاً یہ اپیل ان سنی ہو کر رہ گئی، تاہم میں نے سوچا کہ یہ نام نہاد مسلم لیڈر اگر ہوشمند ہوتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ اب تم یوم احتجاج منانا چھوڑ دو، اب تم یوم تشکر مناؤ، کیونکہ ملک کی انتہا پسند طاقتوں نے 44 سال کے اندر اپنی تمام تخریبی طاقت استعمال کر ڈالی۔ اس کے باوجود ملت اسلامی کا قافلہ انڈیا میں اور ساری دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس قسم کے واقعات ہماری گاڑی کے لیے گویا راستے کی وہ رکاوٹیں، یعنی فرکشنز، ہیں جو گاڑی کو بحفاظت منزل تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 121۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.