ایک مرتبہ میرے پاس ایک مسلمان ملاقات کے لیے اپنی نئی کار پر بیٹھ کر آئے، ان کے ہاتھ پر ایک شاندار گھڑی بندھی ہوئی تھی اور جیب میں خوبصورت قلم لگا ہوا تھا۔ ان کے چہرے پر لگی ہوئی خوبصورت عینک دیکھی، جو ان کے شخصی وقار میں اضافہ کر رہی تھی۔ وہ بیٹھتے ہی مسلمانوں کی زبوں حالی کی داستان سنانے لگے۔ اتنے میں ان کی جیب میں رکھے ہوئے موبائل ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔
اس کو کان پر رکھ کر وہ دور کے کسی صاحب سے بات کرنے لگے۔ جب وہ بات کر چکے تو میں نے ان سے پوچھا کہ جس عثمانی دور اور مغل دور کو آپ لوگ اپنے لیے بڑی چیز سمجھتے ہیں، کیا اس زمانے میں کوئی ایک بھی مسلمان ایسا تھا جس کے پاس موبائل یا ٹیلیفون ہو، یا اس کے پاس موٹر کار ہو، یا اس کے پاس ایسی گھڑی ہو جو آپ اس وقت پہنے ہوئے ہیں، یا وہ آپ جیسی عینک پہن سکتا ہو جو آپ کی شخصیت کو دوبالا کر رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کا ایک مسلمان قدیم زمانے کے نوابوں اور بادشاہوں سے بھی زیادہ بہتر زندگی گزار رہا ہے۔
ایسی حالت میں آپ لوگوں کو یہ کرنا چاہیے کہ پہلے سے بھی زیادہ آپ لوگ خدا کا شکر ادا کریں، نہ یہ کہ شکایت اور مایوسی کی بات کر کے اپنے سینے کو ناشکری کا قبرستان بنا لیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 120۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.