واقعاتِ شکر: ستمبر 2003 کو میرٹھ کے لیے میرا سفر ہوا۔ سفر کرتے ہوئے ہم لوگ وہاں پہنچے جس کو میرٹھ-ہاپوڑ بائی پاس کہا جاتا ہے۔ یہاں الرصالہ کے قارئین کی ایک جماعت ہمارے انتظار میں کھڑی ہوئی تھی، مثلاً مولانا محمد عرفان قاسمی صاحب، ساجد خان صاحب، ڈاکٹر شہزاد علی صاحب (وفات 2009) وغیرہ۔ عام طور پر سیاسی لیڈروں کا حال یہ ہے کہ جب وہ اس طرح کسی مقام پر پہنچیں اور وہاں لوگ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوں، تو اس منظر کو دیکھ کر وہ فخر کے جذبات سے بھر جاتے ہیں۔
مگر میرا حال برعکس طور پر یہ ہوا کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے، یہ شکر کے آنسو تھے۔ میں نے سوچا کہ پچھلے زمانے میں کبھی ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ موجودہ زمانے میں موبائل ٹیلی فون نے اس کو ممکن بنا دیا ہے۔ موبائل ٹیلی فون اللہ تعالیٰ کی عجیب نعمت ہے۔
آپ کسی بھی مقام سے کسی بھی مقام کے لوگوں کو اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں، حتیٰ کہ آپ سفر میں ہوں تب بھی۔ چنانچہ سفر کے دوران موبائل ٹیلی فون کے ذریعے ہمارا رابطہ قارئین الرصالہ کے مذکورہ افراد سے جاری رہا۔ دورانِ سفر اس ٹیلی فونی رابطے کا نتیجہ تھا کہ جب ہماری گاڑی مذکورہ بائی پاس پر پہنچی تو وہاں الرصالہ کے قارئین پیشگی طور پر ہماری رہنمائی کے لیے موجود تھے۔ تعمیرِ شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 120۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.