Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Mahrumi ek nemat

Urdu · 4 min

محرومی ایک نعمت۔ مئی 2000 میں میں نے بہار کا سفر کیا۔ اس سفر میں مجھے بتیا، بہار کا یتیم خانہ، دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ یتیم خانہ 1928 سے قائم ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بچہ یا بچی کا یتیم ہونا کوئی برائی نہیں؛ یہ ایک نعمت ہے جو فطرت کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے۔ اگر یتیم ہونا نعمت نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ پیغمبر اسلام کے لیے یتیمی کا انتخاب نہ فرماتے۔ یتیم ہونا کسی بچہ یا بچی کے لیے قدرت کی طرف سے ایک خوشخبری ہے۔ اس بات کی خوشخبری کہ تم کو زندگی کے سفر کے لیے وہ کورس عطا کیا گیا ہے جو اس انسان کو عطا ہوا۔

جو اس انسان کو عطا ہوا جس کے بارے میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم حضرات بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ بشری کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔ یتیم بچہ یا بچی کو پیدا ہونے کے بعد دنیا میں اپنے فطری امکان کو بروئے کار لانے کے لیے اور کیا چیز ملنی چاہیے، اس کا اشارہ اس قرآنی آیت میں ملتا ہے: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى سورہ نمبر 93 آیت 6۔ یعنی کیا اللہ نے تم کو یتیم نہیں پایا، پھر اس نے تم کو ٹھکانہ دیا؟ اپنے آغازِ حیات میں اپنی زندگی کی تعمیر کے لیے ایک ماوا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ یتیم خانہ اور اسی طرح تمام یتیم خانے اسی آیت کی عملی تفسیر ہیں۔ وہ یتیموں کو ماوا فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے کام کو میں اپنی زبان میں "منصوبۂ خداوندی" سمجھتا ہوں۔ ایک صاحب نے اپنا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں بچپن میں یتیم ہو گیا۔

میں بچپن میں یتیم ہو گیا تھا۔ میرے رشتے داروں نے مجھے یتیم خانے میں داخل کر دیا۔ میرے ساتھ دو یتیم بچے اور تھے۔ ہم تینوں نے یتیم بچوں کی حیثیت سے یتیم خانے میں پرورش پائی۔

اس وقت بظاہر ہمارا کوئی مستقبل نہ تھا، مگر آج ہم تینوں اللہ کے فضل سے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کے اسی یتیم ہونے کا نتیجہ ہے۔ یتیمی کی حالت بہترین حالت ہے۔ یتیمی آدمی کے اندر خود شناسی پیدا کرتی ہے۔

وہ آدمی کے اندر خود کفیل بننے کا جذبہ ابھارتی ہے۔ یتیم آدمی سمجھتا ہے کہ میرا کوئی سہارا نہیں، اس لیے مجھ کو خود ہی سارا عمل کرنا ہے۔ اس طرح وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ یتیمی کے حالات آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔

تعمیرِ شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 108۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.