Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Daur-e-shukr

Urdu · 3 min

دورِ شکر۔ نومبر 1992 میں میرا ایک سفر ناگپور کے لیے ہوا۔ 8 نومبر کو میں نے فجر کی نماز نظام الدین کے 700 سالہ قدیم کالی مسجد میں پڑھی تھی۔ پھر ظہر کی نماز میں نے دہلی ایئرپورٹ پر پڑھی، اور عصر کی نماز ناگپور پہنچ کر ادا کی۔

بظاہر یہ ایک سادہ سا واقعہ ہے جو ہر روز بہت سے مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا ہے، مگر جب میں نے غور کیا تو مجھے اس چھوٹے سے واقعے میں بہت بڑا سبق چھپا ہوا نظر آیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میں دہلی میں بھی اسلامی عبادت کرنے کے لیے آزاد تھا۔ اسی طرح میں راج دھانی کے ایئرپورٹ پر بھی اسلامی عبادت آزادانہ طور پر کر سکتا تھا، اور دہلی سے 1100 کلومیٹر دور ناگپور میں بھی یہ آزادی حاصل تھی کہ میں اطمینان کے ساتھ اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اللہ کی عبادت کروں۔ پھر اس کا مقابلہ میں نے قدیم مکی دور سے کیا، جبکہ اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا۔

اس وقت پیغمبرِ اسلام اور اہلِ اسلام کو یہ آزادی حاصل نہ تھی کہ کھلے طور پر وہ نماز ادا کر سکیں، حتیٰ کہ نمازِ باجماعت ادا کرنے کے مواقع بھی اس وقت موجود نہ تھے۔ مگر آج تمام مسلمانوں کو مکمل طور پر دینی آزادی حاصل ہے۔ یہ واقعہ میرے لیے ایک علامت بن گیا، جس میں مجھے اسلام کی تاریخ آگے کی طرف سفر کرتی ہوئی نظر آنے لگی۔ مجھے دکھائی دیا کہ آج مسلمانوں کی حالت لائقِ شکر ہے، نہ کہ لائقِ شکایت۔

آج ہم اسلام کے حوصلہ افزا مرحلے میں ہیں، نہ کہ حوصلہ شکن مرحلے میں۔ میں نے سوچا کہ جدید تہذیب نے انسانوں، بشمول مسلمان، کے لیے ہر اعتبار سے کتنی زیادہ آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کے باوجود انسان خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔ موجودہ زمانے میں جو چیز سب سے زیادہ اٹھ گئی ہے، وہ شکر ہے۔

سائنسی دریافت، صنعتی انفجار، اور مذہبی آزادی کے اس دور میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ انسان ہمیشہ سے زیادہ شکر کرنے والا بن جائے۔ مگر برعکس طور پر ایسا ہوا کہ وہ ہمیشہ سے زیادہ ناشکری کرنے والا بن گیا۔ اس معاملے میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کا کوئی فرق نہیں ہے۔ تعمیرِ شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 107۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.