Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Shukr ka erosion

Urdu · 6 min

شکر کا ایروژن۔ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ دین میں سب سے زیادہ اہمیت شکر کی ہے۔ ہماری زندگی میں بار بار ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو شکر کے جذبے کو گھٹانے والے ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر مومن کو بہت زیادہ باشعور ہونا چاہیے۔

مومن کے لیے شکر کا ایروژن ناقابلِ برداشت ہونا چاہیے۔ اصل یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں 99% شکر کی بات ہو اور صرف 1% منفی بات، تو شیطان یہ کرتا ہے کہ وہ 1% منفی بات کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ 99% مثبت بات آدمی کی نظر سے اوجھل ہو جاتی۔ وہ شکر کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی ناشکری کے احساس میں جینے لگتا ہے۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ فوراً یہ کہے کہ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ سورہ نمبر 23 آیت 97۔

یعنی: اے اللہ، میں پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں سے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ شیطان بھاگ جائے گا۔ یہ صرف عقیدے کی بات نہیں، بلکہ یہی میرا تجربہ ہے۔ میں نے کہا کہ ناشکری کی کوئی بات دماغ میں آئے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اس کو سرتاسر بے اصل سمجھے۔

کسی بھی عذر کی بنا پر وہ اس کو اپنے دماغ میں جگہ نہ دے۔ وہ اس کو بداہتاً قابلِ رد—یعنی پریم فیشی اٹس سٹینڈز ریجیکٹڈ—سمجھتے ہوئے فی الفور اپنے دماغ سے نکال دے۔ مثلاً 19 اکتوبر 2009 کا واقعہ ہے۔ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے قطر کا سفر ہوا۔

ہم لوگ 3 آدمی تھے۔ کانفرنس میں لوگوں کو دینے کے لیے ہم قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسرے اسلامی لٹریچر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ایئرپورٹ پر پہنچ کر ہمارے ساتھیوں نے اس کو چیک اِن کر دیا۔ قطر کے اس سفر میں غیر معمولی قسم کی سہولیات کا تجربہ ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ قطر کے اس چار روزہ سفر میں ہم کو غیر متوقع طور پر اتنی زیادہ سہولتیں حاصل رہیں کہ ان کو اگر شاہانہ سفر کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہم لوگ داخل ہوئے تو فوراً ہی ایئر لائن کی ایک خاتون نے آگے بڑھ کر ہمارا استقبال کیا اور ہم کو ضروری رہنمائی دی۔ یہ منظر دیکھ کر دل سے دعا نکلی کہ خدایا، جب میں آخرت کے گیٹ پر پہنچوں تو وہاں بھی رحمت کا ایک فرشتہ اس عاجز انسان کے استقبال کے لیے موجود ہو۔ دہلی ایئرپورٹ پر میں نے قدم قدم پر خدا کی نصرت اور رحمت کے ایسے مناظر دیکھے کہ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے: خدایا، اگر میں دنیا کی تمام زبانیں جانتا اور تمام زبانوں کی ڈکشنریوں کے تمام الفاظ مجھ کو یاد ہوتے اور میں تیری حمد اور تیرا شکر ادا کرتا تو میں اس کا حق ادا نہیں کر سکتا تھا۔

خدایا، اگر دنیا کے تمام درخت میرے لیے قلم بنا دیے جاتے اور تمام سمندر میرے لیے سیاہی ہوتے اور میں تیرے احسانات کو لکھنے بیٹھتا تو یقیناً ایسا ہوتا کہ تمام قلم ختم ہو جائیں اور تمام سمندر خشک ہو جاتے۔ تب بھی تیری حمد کا بیان ختم نہ ہوتا۔ یہ الفاظ جب میری زبان پر آئے تو اس وقت میں نے سوچا کہ قرآن سورہ نمبر 31 آیت 27 میں جو یہ بات کہی گئی ہے، بظاہر وہ خدا کی طرف سے ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسانی جذبات کا اظہار ہے۔ وہ علمِ الہی کا بیان نہیں، بلکہ وہ بندہ مومن کا احساس ہے۔

انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کائنات میں تدبر کر کے اعلیٰ خداوندی کو اس طرح دریافت کرے کہ واقعتاً اس کو یہ محسوس ہونے لگے کہ تمام درختوں کے قلم اور تمام سمندروں کی سیاہی بھی اس کے جذباتِ حمد کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 105۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.