Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Ek tajriba

Urdu · 10 min

ایک تجربہ: میں نے 1999 میں مانچسٹر، یعنی انگلینڈ کا سفر کیا۔ اس سفر میں میں نے چند دن ایک نوجوان عرب میزبان، العارف احمد، کے یہاں قیام کیا تھا۔ وہ وہاں ریفیوجی یعنی اسائلم کی حیثیت سے ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں رہتے ہوئے ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا۔

یہ واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: جمعرات کی صبح، 17 جون 1999 کا دن تھا۔ میں مانچسٹر میں میزبان کے گھر ٹھہرا ہوا تھا۔ جب میں بالائی منزل کے ایک کمرے میں بیٹھا ہوا تھا تو میں نے دروازے پر ایک ہلکی سی دستک سنی۔ میں نے دروازہ کھولا تو مجھے تقریباً 5 سال کی عمر کی ایک بچی کھڑی دکھائی دی۔

یہ برادر العارف کی بڑی بیٹی، قانطہ، تھی۔ اس نے انتہائی معصومیت سے پوچھا: تريد حاجةً؟ یعنی، آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟ اگرچہ یہ ایک معمولی قسم کا سوال تھا، لیکن میں اس معصوم آواز سے overwhelm ہو گیا۔

اس قدر overwhelm ہو گیا کہ جواب میں میں اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکا۔ بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ، یعنی نارمل ایونٹ تھا، لیکن میرے ذہن میں یہ ایک عظیم واقعہ، یعنی سپر نیچرل ایونٹ میں کنورٹ ہو گیا۔ چنانچہ اس بچی کی معصوم آواز سن کر مجھے ایسا لگا جیسے خدا نے گویا میرے پاس ایک فرشتہ بھیجا ہے تاکہ وہ میری ضروریات کو دریافت کرے اور اسے پورا کرے۔ اسی لمحے ایک حدیث میرے ذہن میں آئی: رب العالمین روزانہ آسمانِ دنیا پر آتا ہے اور پکارتا ہے: کیا کوئی ہے جو محتاج ہو اور مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں؟

صحیح البخاری، حدیث نمبر 1145۔ کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟ ایک چھوٹا سا سوال تھا جو ایک معصوم بچی نے پوچھا تھا، لیکن میرے اندرونی وجود میں ایک بہت بڑا انقلاب برپا کرنے کے لیے یہ سوال کافی تھا۔ وہ انقلاب، جس کو آج کی زبان میں برین اسٹارمنگ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

تھوڑی دیر کے لیے میں نے محسوس کیا کہ کائنات کی تمام چیزیں میرے مائنڈ کی اسکرین پر موجود ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا روحانی تجربہ تھا، جس کا اظہار انسانی الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ابتدا میں یوں لگتا تھا جیسے خدا ایک ننھے فرشتے کے ذریعے کہہ رہا ہے: اے میرے بندے، کیا تم کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟ پھر اس عمل میں گویا پوری کائنات بھی شامل ہو گئی۔

پھر اس عمل میں گویا پوری کائنات بھی شامل ہو گئی۔ میرے سامنے بظاہر ایک چھوٹی سی لڑکی تھی جو مجھ سے پوچھ رہی تھی: کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟ لیکن اپنے توسیع معنی کے اعتبار سے یہ ایسا ہی تھا جیسے پوری کائنات ایک ہی سوال پوچھ رہی ہو۔ وسیع آسمان کہہ رہا ہو: کیا آپ کو کسی پناہ گاہ کی ضرورت ہے؟

میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تاکہ میں آپ کو پناہ گاہ مہیا کروں، کیونکہ خدا نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ چمکتا ہوا سورج کہہ رہا ہو: کیا آپ کو روشنی کی ضرورت ہے؟ میں یہاں روشنی کی فراہمی کے لیے اور آپ کے اندھیرے کو دور کرنے کے لیے حاضر ہوں۔ اونچے پہاڑ اعلان کر رہے ہوں: کیا آپ انسانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونا چاہتے ہیں؟

میں یہاں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تاکہ آپ کو انسانیت کا اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں مدد کروں۔ بہتے ہوئے دریا کی روانی یہ کہہ رہی ہو: کیا آپ کو اپنے تزکیے کے لیے روحانی غسل کی ضرورت ہے؟ میں یہاں آپ کو روحانی غسل دینے کے لیے حاضر ہوں۔ ہوا کے جھونکے پوچھ رہے ہوں: کیا آپ خدا کے عجائبات، یعنی ونڈرز، کو دیکھنے کے لیے کائنات کی سیر کرنا چاہتے ہیں؟

آپ کے لیے اس روحانی سفر پر جانے کے لیے میری پشت موجود ہے۔ درخت سرگوشی کر رہے ہوں: کیا آپ ہماری طرح کی نمو پذیر اور مثبت شخصیت رکھنا پسند کریں گے؟ ہم یہاں آپ کی خواہش کو حقیقت بنانے کے لیے نمونے کی حیثیت سے موجود ہیں۔ ان کی شاخوں پر پھل اور ان کی پتیاں اعلان کر رہی ہوں۔

اگر آپ اپنی شخصیت کے لیے فکری اور روحانی غذا، یعنی انٹلیکچول فوڈ کی خواہش رکھتے ہیں، تو ہم آپ کو اس کی فراہمی کے لیے حاضر ہیں۔ جب یہ سین میرے دماغ میں چل رہا تھا تو میں نے پرندوں کے چہچہانے کو سنا، جو گویا یہ پیغام دے رہے تھے: اے خدا کے بندے، یہاں تمہارے لیے خوشخبری ہے۔ اگر تمہیں کوئی ضرورت ہے تو خدا نے پوری کائنات تمہاری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنایا ہے۔ خدا اتنا فیاض ہے کہ اس نے ساری کائنات کو دن رات تمہاری خدمت میں حاضر رہنے کے لیے پیدا کیا ہے۔

پوری کائنات تمہارے لیے کسٹم میڈ کائنات، یعنی کسٹم میڈ یونیورس ہے۔ مزید یہ کہ اگر آپ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں تو وہ آپ کو ان سب سے بھی ایک بڑا انعام عطا کرے گا، یعنی ابدی جنت، جہاں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ الانعام، سورہ نمبر 6، آیت 48۔ پھر میرے ذہن میں قرآن کی یہ آیت آئی: وَأَتَيكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ سورہ نمبر 14، آیت 34۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اس زمین پر مناسب طور پر زندگی گزارنے کے لیے جو بھی ضرورت ہے، وہ براہ راست اور بالواسطہ طور پر خدا نے پہلے سے تیار کر کے رکھ دی ہے۔ مثلاً انسانی خدمت کے لیے گھوڑے اور دوسرے جانور براہ راست عطیات ہیں، جبکہ ہوائی جہاز بالواسطہ انداز میں نیچر میں پوٹینشل طور پر رکھ دیے گئے ہیں، جو دورِ جدید میں دریافت ہوئے۔ ہوا کے ذریعے آواز کا سفر براہ راست عطیے کی ایک مثال ہے، جبکہ الیکٹرانک آلات کے ذریعے اس کی ترسیل بالواسطہ عطیہ ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے بھی۔

اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔ سورہ نمبر 16، آیت 8۔ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ کی اس طرح تربیت کریں کہ زندگی کا ہر تجربہ اور آس پاس کا ہر واقعہ ان کے لیے شکر کا آئٹم بن جائے۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 101۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.