← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Manfi tajrib-e-se musbat tajriba
Urdu · 5 min
منفی تجربے سے مثبت تجربہ: میں جس روحانی مدرسۂ فکر کو مانتا ہوں، وہ اس سے مختلف ہے۔ اس دوسرے مدرسۂ فکر کے مطابق آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے منفی تجربات کو کنورٹ کر کے ان کو مثبت تجربے کی شکل دے۔ وہ مادی واقعات کو روحانی تجربے میں تبدیل کر سکے۔ وہ ایک غیر روحانی واقعے کو روحانی واقعے کی صورت دے دے۔
یہ وہی اصول ہے جس پر انسان کے باہر کی پوری مادی دنیا قائم ہے۔ اس اصول کو تبدیلی کا اصول، یعنی پرنسپل آف کنورژن، کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پانی کیا ہے؟ دو گیسیں جو اپنے آپ میں پانی نہیں ہیں، وہ مل کر ایک اور چیز کی شکل اختیار کرتی ہیں، جس کو ہم سیال پانی کہتے ہیں۔
درخت کیا ہے؟ درخت دراصل غیر نباتاتی چیزوں کے کنورژن کا نتیجہ ہے۔ اسی کی ایک مثال گائے ہے۔ گائے اپنے جسم میں دودھ نہیں داخل کرتی، بلکہ وہ اپنے جسم کے اندر گھاس داخل کرتی ہے۔
پھر مخصوص نظام کے تحت یہ گھاس کنورٹ ہو کر دودھ بن جاتی ہے۔ گویا کہ گائے ایک ایسی انڈسٹری ہے جو نان ملک کو ملک میں تبدیل کرتی ہے۔ اسی حقیقت کو ایک اردو شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے: "کل جو گھاس چری تھی بن میں، دودھ بنی وہ گائے کے تھن میں۔ " کہا جاتا ہے کہ ایک شخص ایک بزرگ سے ملا، وہ کسی بات پر بزرگ سے غصہ ہو گیا۔
بزرگ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آدمی اٹھا اور اپنے پاؤں سے بزرگ کے سینے پر مار دیا۔ یہ بزرگ کے لیے ایک منفی ردعمل کا واقعہ تھا، مگر انہوں نے اس منفی واقعے کو ایک مثبت تجربے میں تبدیل کیا اور اس آدمی سے کہا: "میرے آہنی سینے سے تمہارے نرم پاؤں کو چوٹ تو نہیں لگی؟ " یعنی واضح ہو کہ یہ ایک قصہ ہے، نہ کہ ایک واقعہ۔
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ جب کسی بندے کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اس پر صبر کر لے، تو خدا اس کے گوشت کو ایک اور گوشت اور اس کے خون کو ایک اور خون بنا دیتا ہے۔ یہ تبدیلی فزیکل معنوں میں نہیں ہوتی، بلکہ وہ اسپرچول معنوں میں ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصیبتوں پر صبر و شکر کا رسپانس پیش کرنا، آدمی کے لیے ایک روحانی تربیت بن جاتا ہے۔ یہ اس کو منفی سوچ کے بجائے مثبت سوچ والا انسان بنا دیتا ہے۔
یہ اس کو دشمنی کرنے والے انسان کے بجائے محبت کرنے والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو پست سطح پر جینے والے انسان کے بجائے اونچی سطح پر جینے والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو دو طرفہ اخلاقیات، یعنی بائی لیٹرل ایتھکس کے بجائے، یکطرفہ اخلاقیات، یعنی یونی لیٹرل ایتھکس کا حامل بنا دیتا ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 109۔