← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Mazhabi sadaqat ka scincee zuhur
Urdu · 6 min
مذہبی صداقت کا سائنسی ظہور: قرآن کے مطابق تفکر اور تدبر کی تشریح کا صحیح طریقہ وہ ہے جس کو "ربانی تعقل" کہا جا سکتا ہے، یعنی قرآن کے اشارات کو رہنما بنا کر تخلیقِ خداوندی کا مطالعہ کرنا اور حقائقِ فطرت کی روشنی میں اس کی تشریح و تفصیل کرنا۔ مطالعے کا یہی اسلوب حقیقی اسلوب ہے۔ اس سے وہ اہلِ ایمان پیدا ہوتے ہیں جو معرفتِ الٰہی اور خشیتِ ربانی کی نعمت سے سرشار ہوں۔ قرآن کی سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔
قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی اس حقیقت کی طرف بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے کی دو قرآنی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: "کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیے، اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں، اور گہرے سیاہ بھی؟ " اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپائیوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔
بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ سورہ نمبر 35 آیت 27 تا 28۔ ربانی تعقل کی تشریح کے لیے موجودہ زمانے میں نئے وسیع امکانات کھل گئے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیقات نے موجودہ زمانے میں فطرت کی جن چھپی ہوئی حقیقتوں کو دریافت کیا ہے، وہ گویا اسی ربانی تعقل کی تفصیل ہے۔
ربانی تعقل کے ان جدید امکانات کو پیشگی طور پر قرآن میں بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت کا ترجمہ یہ ہے: "ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ " سورہ نمبر 41 آیت 53۔ احمد اور الترمذی نے حضرت انس ابن مالک کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے۔
اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ" مسند احمد، حدیث نمبر 12327۔ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2869۔ یعنی میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا اول بہتر ہوگا یا اس کا آخر۔ بارش جب ہوتی ہے تو اس کے ابتدائی دور میں بھی انسان کو بہت سی برکتیں حاصل ہوتی ہیں، مگر بعد کے مرحلے میں جب بارش سے سیراب ہو کر زمین سبزہ اور درخت اگاتی ہے، تو اس دوسرے مرحلے میں اس کی برکتیں اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔
اب فصل اور پھول اور پھل وغیرہ پیدا ہوتے ہیں، جو انسان کے لیے بے پناہ خیر و برکت کا ذریعہ ہیں۔ یہی معاملہ دینِ محمدی کا ہے۔ دینِ محمدی کا ظہور ہو، دینِ محمدی کا ظہور ہوا، تو اس وقت دنیا اپنے روایتی دور میں تھی۔ اس دور میں بھی اس دین کے پیروؤں کو اس سے بے پایاں فائدے حاصل ہوئے۔
بعد کے زمانے میں، جب کہ دنیا سائنسی دور میں داخل ہوگی، تو اس وقت بھی اس دین کے پیروؤں کو نئے امکانات کے اعتبار سے عظیم فائدے حاصل ہوں گے۔ دین کی علمی و فکری عظمت، اثرِ نو نئی شان کے ساتھ، لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہو جائے گی۔ اس حدیث میں امت کے دورِ آخر میں جس عظیم خیر کی پیشن گوئی کی گئی ہے، اس سے مراد غالباً وہی سائنسی حقیقتیں ہیں جنہوں نے نئے وسیع تر انداز میں اس امکان کا دروازہ کھول دیا کہ انسان ان کو استعمال کر کے یقین کے اعلیٰ درجات حاصل کرے، اور اسلام کی صداقت کو نئے دلائل و براہین کے ذریعے لوگوں کے اوپر ثابت شدہ بنائے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 78۔