Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Bisvin sadi

Urdu · 6 min

20ویں صدی۔ 20ویں صدی انسانی تاریخ کی وہ صدی ہے جبکہ قدیم روایتی دور کا خاتمہ اپنی انتہا کو پہنچا۔ 20ویں صدی میں پہنچ کر دنیا کے حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں۔ اس صدی میں ایسے واقعات پیش آئے جس نے دنیا کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو نئی شکل دی۔

نئے تاریخی عمل کے نتیجے میں اب دنیا میں نہ شخصی حکمرانی ہے اور نہ جابرانہ سیاسی نظام۔ 1991 میں سوویت ایمپائر کا ٹوٹنا انسانی تاریخ میں نظامِ جبر کے خاتمے کی آخری تکمیل تھی۔ اب اس قسم کا سیاسی جبر بھی دنیا میں واپس آنے والا نہیں۔ آج کے توحید پرستوں کو نہ اس کی ضرورت ہے کہ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف ہجرت کریں، اور نہ یہ ضرورت ہے کہ وہ وقت کے حکمرانوں سے مسلح ٹکراؤ کریں تاکہ انہیں ختم کر کے اپنے لیے آزادانہ دینی زندگی کے مواقع حاصل کر سکیں۔

کیونکہ یہ چیزیں تو اب تاریخی عمل کے نتیجے میں اپنے آپ انہیں حاصل ہو چکی ہیں۔ اس انقلابی تبدیلی کے دو بڑے پہلو ہیں: نمبر 1، مکمل مذہبی آزادی؛ نمبر 2، جدید وسائل۔ موجودہ زمانہ انسانی تاریخ کا پہلا زمانہ ہے جبکہ ایک طرف فکری انقلابات اور دوسری طرف اقوامِ متحدہ کے قیام کے نتیجے میں ہر فرد اور ہر گروہ کا ناقابلِ تنسيق حق مان لیا گیا ہے کہ وہ مکمل طور پر یہ حق رکھتا ہے کہ جس مذہب کو چاہے مانے، اس پر عمل کرے، اور اس کی تبلیغ کرے، صرف اس ایک شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے خلاف تشدد کا کوئی فعل نہ کرے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پرامن مذہبی زندگی یا پرامن دعوت و تبلیغ کے راستے میں آج کسی بھی قسم کی کوئی خارجی رکاوٹ موجود نہیں۔

قرآن میں اصحابِ رسول کو یہ دعا تلقین کی گئی تھی کہ: "اے ہمارے رب! تو ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلی امتوں پر ڈالا تھا"۔ ربنا ولا تحمل علينا اصرا کما حملتہ علی الذين من قبلنا سورہ نمبر 2 آیت 286۔ یہ گویا دعا کی صورت میں اس آنے والے دور کا پیشگی اعلان تھا جو پیغمبر آخر الزماں کی امت کے لیے اللہ نے مقدر کیا تھا۔

خاتمِ عصر کا یہ دور اب دنیا میں پوری طرح آ چکا ہے۔ ایسی حالت میں آج کے مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ وہ نئے دورِ آزادی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کا بھرپور استقبال کریں، نہ کہ وہ خود ساختہ نظریات کی بنا پر نئے دور کے سیاسی حکمرانوں سے غیر ضروری ٹکراؤ شروع کر دیں۔ اور پھر صحابیِ رسول حضرت عبداللہ ابن عمر کے اس پیشگی انتباہ کا مصداق ہیں کہ اللہ کی توفیق سے اصحابِ رسول نے سیاسی فتنے کا خاتمہ کر دیا تھا، مگر تم لوگوں نے اپنی نادان کارروائیوں کے ذریعے یہ سیاسی فتنے کو دوبارہ اپنے خلاف زندہ کر لیا۔ صحیح البخاری حدیث نمبر 4515۔

اس سلسلے میں دوسری اہم چیز جدید وسائل کا ظہور ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد ایسے نئے وسائل کار ظہور میں آئے ہیں جو اپنی تاثیر کے لحاظ سے اتنا زیادہ دور رس ہیں کہ اب سیاسی اقتدار عملاً ثانوی درجے کی چیز بن گیا ہے۔ آج وہ سب کچھ مزید اضافے کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی امید قدیم زمانے میں صرف سیاسی اقدار کے ذریعے کی جا سکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان وسائل کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو آج کی دنیا میں ایسا دینی ایمپائر بنایا جا سکتا ہے جس کا تصور بھی قدیم سیاسی ایمپائر کے زمانے میں نہیں کیا جا سکتا تھا۔

تعمیرِ شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 76۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.