Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Ek sada misaal

Urdu · 4 min

ایک سادہ مثال: مذکورہ حدیث میں جس حقیقت کو بتایا گیا ہے، اس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ انسانی تاریخ کے دو بڑے دور ہیں: ایک قبل از سائنس دور، یعنی پری سائنٹیفک پیریڈ، اور دوسرا بعد از سائنس دور، یعنی پوسٹ سائنٹیفک پیریڈ۔ اس تقسیم کے مطابق پہلے دور کا انسان روایتی معلومات کی روشنی میں سوچتا تھا، اور دوسرے دور میں وہ سائنسی معلومات کی روشنی میں سوچنے لگا۔ اس حدیث کے مطابق امت محمدی کے افراد کے لیے روایتی دور بھی ایمانی خوراک کا ذریعہ تھا۔ اسی طرح سائنسی دور میں بھی وہ اپنے ایمانی اضافے کے لیے علمی خوراک حاصل کرتے رہیں گے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں ایک سادہ مثال درج کی جاتی ہے: قرآن میں بار بار زمین کی نعمتوں کا ذکر آیا ہے۔ اس سلسلے کی ایک قرآنی آیت یہ ہے: «اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا» سورہ نمبر 40، آیت 64۔ یعنی وہ اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ٹھہراؤ۔ اس آیت میں روایتی دور کے مومنین کو بھی ایمان کی غذا ملی تھی؛ یہ سوچ کر ان کا سینہ شکرِ خداوندی کے جذبے سے سرشار ہو گیا تھا کہ زمین کس طرح ان کے لیے پرسکون جائے قیام بنی ہوئی ہے۔

اگر زمین ہلتی رہتی یا وہ ہچکولے کھاتی تو اس کے اوپر پرسکون زندگی گزارنا کس قدر دشوار ہو جاتا۔ جدید سائنسی دور میں نئے ذرائع سے جو مطالعہ کیا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ زمین سابق تصور کے خلاف ساکن اور بے حرکت نہیں ہے، بلکہ وہ مسلسل حرکت میں ہے۔ نئی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین بیک وقت دو طریقے سے گردش کر رہی ہے: ایک اپنے مدار یعنی آربٹ پر سورج کے گرد، اور دوسرے خود اپنے محور یعنی ایکسس کے اوپر۔ اس نئی سائنسی تحقیق نے مذکورہ آیت کی معنویت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔

نئے حالات میں یہ آیت گویا مزید اضافے کے ساتھ یہ کہہ رہی ہے کہ کیسا مہربان ہے وہ اللہ جس نے زمین کو تمہارے لیے جائے سکون بنایا، باوجود یہ کہ زمین مسلسل طور پر دوہرا حرکت کر رہی ہے۔ It is God who made the earth a stable home for you, in spite of continuous double movement of the earth. حدیث کی تمثیل کے مطابق، بارش کے پہلے دور میں اگر انسان سادہ طور پر یہ سمجھ کر زمین کو اپنے لیے خدا کی رحمت جانتا تھا کہ وہ اس کے لیے پرسکون جائے قیام بنی ہوئی ہے، تو اب بارش کے دوسرے دور میں وہ اس اضافے کے ساتھ اس معاملے میں خدا کا شکر کرے گا کہ دوہرا طور پر مسلسل حرکت میں ہونے کے باوجود خدا نے زمین کو اس کے لیے سکون کا مقام بنا دیا ہے۔ تعمیر شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 80۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.