Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Hamd-e-khudawandi

Urdu · 3 min

حمدِ خداوندی۔ بسم اللہ کے بعد قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد لله رب العالمين سورہ نمبر 1، آیت 2۔ یعنی: "سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہان کا مالک ہے۔ " اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو جو نعمتیں، یعنی blessings، دی ہیں، ان کے جواب میں انسان سے کیا response مطلوب ہے۔

یہ حمد کا response ہے۔ حمد کا مطلب شکر اور تعریف کے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے، مگر انسانی استعمال کے اعتبار سے شاید زیادہ بامعنی لفظ ہے "اعتراف"، یعنی acknowledgement۔ یعنی ان نعمتوں کو دریافت کرنا، اور دل کے سچے جذبے کے ساتھ ان کا اعتراف کرنا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان سے شکر یا تعریف کا لفظ بول دیا جائے۔

اعتراف کا آغاز دریافت، یعنی discovery، سے ہوتا ہے۔ پہلے انسان ان نعمتوں کو دریافت کرتا ہے، اس کے بعد اس کے دل میں اعتراف کا جذبہ امڈتا ہے، اور پھر ان وفورِ جذبات کا اظہار مختلف الفاظ کی صورت میں، بے ساختہ طور پر، اس کی زبان سے نکل پڑتا ہے۔ گویا شکر وہ ہے جس کے اندر گہرے جذبات کا طوفان شامل ہو۔ شکر وہ ہے جو دل کو تڑپا دے، جو آنسوؤں کی صورت میں امڈ پڑے۔

شکر وہ ہے جس کے اندر انسان کی پوری شخصیت شامل ہو جائے۔ شکر یہ نہیں ہے کہ زبان سے کچھ الفاظ بول دیے جائیں۔ شکر گہرے اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ ایک شاعر نے ایک گہرے جذبے کا ذکر کرنا چاہا، تو اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: "اس بات کے کہنے کو کہاں سے جگر آئے؟

" حقیقت یہ ہے کہ سچا اعتراف وہ ہے جس کے احساس سے آدمی کا دل پھٹنے لگے۔ جس کو بیان کرنے کے لیے انسان کی ڈکشنری کے الفاظ ناکافی نظر آئیں۔ سچا اعتراف انسان کی پوری شخصیت کا اظہار ہوتا ہے۔ سچے اعتراف میں آنکھ کے آنسو اور زبان کے الفاظ اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہو جاتے ہیں کہ ان کو الگ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

تعمیرِ شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 71۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.