← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Hamd aur tazarro
Urdu · 7 min
حمد اور تضرع۔ And— and— عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "عرض عليّ ربي ليجعل لي بطحاء مكة ذهبًا، فقلت: لا يا ربّ، ولكن أشبع يومًا وأجوع يومًا." أو نحو ذلك. فإذا جعتُ تضرعت إليك وذكرتك، وإذا شبعتُ حمدتك وشكرتك. مسند احمد، حدیث نمبر 22190۔
سنن الترمذی، حدیث نمبر 2347۔ یعنی: حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب نے میرے سامنے یہ پیشکش کی کہ مکے کی وادی کو تمہارے لیے سونا بنا دیا جائے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب، نہیں، بلکہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں ایک دن کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ پس جب مجھے بھوک لگے تو میں تیری طرف عاجزی کروں اور تجھ کو یاد کروں۔
اور جب مجھے سحری حاصل ہو تو میں تیری تعریف کروں اور تیرا شکر ادا کروں۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے دو چیزیں مطلوب ہیں: ایک یہ کہ وہ اللہ کی قدرت کا اعتراف کر کے اس کے آگے اپنے عجز کا اظہار کریں، دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو محسوس کر کے اس پر شکر کرنے والے بن جائیں۔ یہ دونوں باتیں نہایت وضاحت کے ساتھ قرآن و حدیث میں بتائی گئی ہیں، مگر اس کا سب سے بڑا عملی تجربہ وہ ہے جو بھوک اور سحری کی صورت میں انسان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جب آدمی کو بھوک لگتی ہے، جب اس کو پیاس ستاتی ہے، اس وقت اس کو آخری حد تک اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور اور محتاج ہے۔
اسی طرح جب بھوک پیاس کی شدت میں مبتلا ہونے کے بعد اس کو کھانا اور پانی ملتا ہے، تو اس وقت اس کو آخری طور پر محسوس ہوتا ہے کہ کھانا اور پانی کتنی زیادہ قیمتی چیزیں ہیں۔ اس دنیا میں آدمی کو بھوک کا تجربہ بھی ہونا چاہیے اور سحری کا بھی۔ اس پر یہ کیفیت بھی گزرنی چاہیے کہ اس کا حلق پیاس کی وجہ سے سوکھ گیا ہو، اور اسی کے ساتھ یہ کیفیت بھی کہ اس نے ٹھنڈا پانی پیا اور اس کے بعد اس کا وہ حال ہو گیا جس کو حدیث میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: ذهب الظمأ وابتلت العروق. شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 3902۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے بغیر کیفیات پیدا نہیں ہوتیں۔ روزہ اسی قسم کے حالات پیدا کرنے کی ایک سالانہ تدبیر ہے۔ روزے کے ذریعے آدمی کو بھوک اور سحری دونوں کا تجربہ کرایا جاتا ہے تاکہ وہ خدا کے آگے عاجزی کرنے والا بھی بنے اور اسی کے ساتھ اس کا شکر کرنے والا بھی۔ قرآن میں روزے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو!
تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار بنو۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے اور اللہ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ بتائی اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو۔ سورہ نمبر 2، آیت 183 تا 185۔ ان آیات میں روزے کے دو خاص فائدے بتائے گئے ہیں: ایک یہ کہ روزہ آدمی کے اندر تقویٰ پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دوسرے یہ کہ اس سے آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر کرنے والا بنے۔
قرآن میں جس دینی کیفیت کے لیے تقویٰ اور شکر کا لفظ استعمال ہوا ہے، اسی کو حدیث میں تضرع اور شکر کہا گیا ہے۔ یہی دونوں کیفیتیں عبدیت کی اصل ہیں۔ اللہ کے مقابلے میں اپنے عجز کا احساس آدمی کے اندر تضرع اور تقویٰ کے احساسات ابھارتا ہے، اور اللہ کے عطیات کا احساس اس کے اندر حمد اور شکر کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ اگر آدمی کا شعور بیدار ہو تو یہ دونوں کیفیتیں ہر روز، ہر تجربے سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی رہیں گی۔
وہ ہر واقعے سے یہ دونوں ربانی غذائیں حاصل کرتا رہے گا۔ پھر انہی دونوں کیفیات کو مزید شدت اور عمومیت کے ساتھ حاصل کرنے کے لیے رمضان کے مہینے کا روزہ مقرر کیا گیا ہے۔ رمضان کا روزہ گویا عمومی تربیت کا خصوصی کورس ہے، تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 72۔