Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Hamd-e-dunya,Hamd-e-aakhirat

Urdu · 8 min

حمدِ دنیا، حمدِ آخرت۔ قرآن کی ایک آیت یہ ہے: "الحمد لله رب العالمين"۔ سورہ نمبر 1، آیت 2۔ یعنی ساری حمد اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔

یہ آیت دنیا کی زندگی میں اہلِ ایمان کے روز و شب کا حال بتاتی ہے۔ اہلِ جنت جب آخرت میں پہنچیں گے اور جنت میں داخل کر دیے جائیں گے، تو وہاں ان کا مشغلہ کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَآخِرُ دَعْوَهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورہ نمبر 10، آیت 10۔ یعنی وہاں ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جو رب ہے سارے جہان کا۔

اہلِ جنت کا ایک اور قول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّ الْحَزَنِ" سورہ نمبر 35، آیت 34۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ ان آیتوں پر غور کیجیے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ جنت دنیا میں کس طرح زندگی گزاریں گے، اور پھر آخرت میں ان کو کس قسم کی زندگی حاصل ہوگی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی ان کی زندگی حمدِ رب کی زندگی ہوگی، اور آخرت میں بھی ان کے صبح و شام رب العالمین کی حمد میں گزریں گے۔

فرق یہ ہے کہ دنیا میں انہوں نے حمدِ رب کی زندگی دارالکبد، سورہ البلد، سورہ نمبر 90، آیت 4 میں گزاری ہوگی۔ آخرت میں ان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ حزن سے خالی دنیا۔ الفاطر، سورہ نمبر 35، آیت 34 میں اعلیٰ معیاری درجے میں حمدِ رب کی توفیق پائیں گے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلے کی قیمت کیا ہے۔

وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ذہنی طور پر اتنا ارتقاء یافتہ بنائے کہ وہ حزن اور کبت کے حالات میں بھی اعلیٰ معرفت کی سطح پر زندگی گزارے۔ گویا کہ انسان سے جو چیز اصلاً مطلوب ہے، وہ حمدِ رب ہے۔ دنیا میں بھی حمد، آخرت میں بھی حمد۔ ایسا کیوں ہے؟

اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کی رحمت، یعنی بلیسنگ کا نتیجہ ہے۔ پھر پیدا ہونے کے بعد جس دنیا میں وہ زندگی گزارتا ہے، وہ پوری کی پوری رحمتوں کی دنیا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے واحد طرزِ زندگی صرف یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ اس حقیقت کو یاد رکھے۔ وہ ہر موقع، یعنی اوکیژن پر، اللہ کی بے پایاں رحمت کا اعتراف کرے۔

اس کی شعوری بیداری اس درجے تک پہنچ جائے کہ ہر چیز سے اس کو حمدِ خداوندی کا رزق ملنے لگے۔ یہ حالت ایک اعتبار سے دنیا میں اللہ رب العالمین کا اعتراف ہے۔ یہ اس فطری تقاضے کو پورا کرنا ہے جو تخلیق کے اعتبار سے انسان کے اندر ہونا چاہیے۔ یہی انسان وہ ہے جس نے دنیا میں سچا انسان بن کر زندگی گزاری۔

دنیا میں اس طرح زندگی گزارنے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہی سچا انسان وہ انسان ہے جس کو آخرت کی جنت میں وہ درجہ ملے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "فِي مَقَعَدٍ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ" سورہ نمبر 54، آیت 55۔ یعنی وہ بیٹھے ہوں گے سچی بیٹھک میں، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ دنیا میں جو لوگ سچائی کی زندگی گزاریں، ان کو اس کا یہ انعام ملے گا کہ وہ آخرت میں سچائی کی سیٹ، یعنی سیٹ آف ٹرتھ پر بیٹھنے کا اعزاز حاصل کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے زندگی کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ معرفتِ خداوندی میں زندگی گزارے۔

وہ اپنی زندگی کے لمحات اس طرح گزارے کہ وہ مسلسل طور پر اللہ کی نشانیوں کو دریافت کر رہا ہو۔ اعلیٰ اللہ، یعنی ونڈرز آف گاڈ، بلاشبہ کائنات کی سب سے بڑی چیزیں ہیں۔ سچا انسان وہ ہے جو دنیا کی زندگی میں اعلیٰ اللہ میں جیے، اور آخرت میں وہ زیادہ اعلیٰ صورت میں اعلیٰ اللہ اور حمدِ الہی میں جینے کا مرتبہ پائے۔ قرآن کی ایک آیت یہ ہے: "عَلَىٰ بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" سورہ نمبر 13، آیت 28۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ لذیذ لمحہ، یعنی جوائس مومنٹ، وہ ہے جب کہ وہ اپنے رب کی قربت حاصل کرے۔ جب کہ وہ کائنات میں تخلیق کی معنویت کو دریافت کرے۔ جب کہ اس کا اعلیٰ تصور اس کو فرشتوں کا ہم نشین بنا دے۔ جب کہ وہ اعلیٰ معرفت کا شعوری تجربہ حاصل کرے۔

جب کہ وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت کی معرفت حاصل کر لے۔ یہی انسان کی حقیقی زندگی ہے۔ یہ زندگی ایک سچے انسان کو دنیا میں ابتدائی طور پر حاصل ہوتی ہے، اور آخرت کی جنت میں یہی زندگی اس کو اپنی اعلیٰ صورت میں حاصل ہوگی۔ گویا کہ سچا انسان وہ ہے جو اسی دنیا میں اللہ رب العالمین کے پڑوس میں جینے لگے۔

یہی وہ زندگی ہے جو جنت میں اس کو زیادہ اعلیٰ درجے میں حاصل ہوگی۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 68۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.