جذباتِ شکر کی بیداری حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر شام کو پانی سے افطار کیا تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2357۔ یعنی پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں، اور روزے کا اجر ان شاء اللہ ثابت ہو گیا۔ پانی ایک غیر معمولی قسم کی نعمت ہے، پانی پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ پانی نہیں تو زندگی نہیں، مگر عام حالات میں پانی کی اس خصوصی نعمت کا احساس نہیں ہوتا۔
مگر ایک آدمی جب روزہ رکھ کر سارے دن پانی کا استعمال نہ کرے، اور اس پر پیاس کا تجربہ گزرے، اس وقت جب آدمی پانی پیتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ پانی کیسی عجیب نعمت ہے۔ اس وقت آدمی کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں، وہ سوچتا ہے کہ کس طرح دو گیسوں کے ملنے سے سیال یعنی لیکویڈ پانی بن گیا۔ عطاہ مقدار میں پانی کے ذخیرے زمین کے اوپر جمع ہو گئے، پھر پانی سے زندگی کی تمام ضرورتیں پوری ہو گئیں۔ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ پانی آدمی کی پیاس کو بجھا کر اس کے لیے زندگی کا سبب بنتا ہے۔
یہ احساسات جب جاگتے ہیں تو نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی پیاس بجھتی ہے، بلکہ اسی کے ساتھ شکرِ خداوندی کا ایک دریا آدمی کے اندر رواں ہو جاتا ہے۔ اللہ انسان کا منعیمِ حقیقی ہے۔ اللہ نے انسانوں کو ان گنت نعمتیں عطا کی ہیں۔ ان نعمتوں پر اللہ کا حقیقی شکر ادا کرنا اللہ کی سب سے بڑی عبادت ہے۔
روزے کے ذریعے جب انسان کے اندر ان نعمتوں کا احساس جگایا جاتا ہے تو آدمی کا شعور بیدار ہو جاتا ہے، وہ غفلت سے باہر آ جاتا ہے، وہ احساسِ نعمت سے سرشار ہو کر حقیقی معنوں میں اللہ کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔ روزہ جذباتِ شکر کی بیداری کا ذریعہ ہے۔ انسان ہر وقت انعاماتِ خداوندی کے سمندر میں رہتا ہے، مگر عام حالات میں اس کو ان نعمتوں کا شعوری احساس نہیں ہوتا۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ان نعمتوں کو اثرِ نو دریافت کر کے اپنے رب کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے۔
تعمیرِ شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.