← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Shukr ke do darjey
Urdu · 8 min
شکر کے دو درجے: اس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا عطیہ ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پورے دل و جان کے ساتھ ان کے منعِم، یعنی گیور کا اعتراف کرے۔ اس اعتراف کا مذہبی نام شکر ہے۔ اس کے دو درجے ہیں: ایک نارمل شکر یا نارمل اعتراف، یعنی نارمل اکنالجمنٹ؛ دوسرا تخلیقی شکر یا تخلیقی اعتراف، یعنی کریئیٹو اکنالجمنٹ۔
نارمل شکر کی مثال یہ ہے کہ آپ کو پیاس لگی، آپ نے گلاس میں پانی لے کر اس کو پیا۔ اس سے آپ کو سیرابی حاصل ہوئی، اور پھر آپ نے کہا کہ خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھ کو پانی دیا جس سے میں اپنی پیاس بجھاؤں۔ تخلیقی شکر کی مثال یہ ہے کہ آپ نے جب پانی پیا تو آپ کو پانی کی وہ پوری تاریخ یاد آ گئی جو جدید سائنس نے دریافت کی ہے، یعنی تقریباً 15 بلین سال پہلے وسیع خلا میں بے شمار ستارے، یعنی اسٹارز، وجود میں آئے۔ پھر ایک عرصے کے بعد لٹل بینگ ہوا، جس سے موجودہ نظام شمسی وجود میں آیا۔
اس کے بعد زمین کی سطح پر بہت بڑی مقدار میں ہائیڈروجن گیس اور آکسیجن گیس کے بادل چھا گئے۔ پھر دو گیسوں کے ملنے سے وہ استثنائی چیز وجود میں آئی جس کو پانی کہا جاتا ہے۔ پھر یہ پانی سمندروں میں کھاری پانی کی حیثیت سے جمع ہو گیا۔ پھر بارش کے نظام کے تحت اس کھاری پانی کا ازالۂ نمک، یعنی ڈی سالینیشن، ہوا۔
اس طرح ہمیں وہ میٹھا پانی حاصل ہوا جس سے ہم اپنی پیاس بجھائیں اور دوسرے کام کریں، مثلاً زراعت وغیرہ۔ پانی کے معاملے میں پہلی صورت نارمل شکر کی ہے، اور دوسری صورت تخلیقی شکر کی۔ دوسرے الفاظ میں، پہلا شکر اگر صرف شکر ہے تو دوسرا شکر برتر شکر۔ شکر اور برتر شکر کا یہی معاملہ دوسری تمام چیزوں کے بارے میں پیش آتا ہے۔
اسی طرح اس معاملے کی ایک مثال خون، یعنی بلڈ ہے۔ انسان جو غذا اپنے جسم میں داخل کرتا ہے، وہ ایک پیچیدہ نظام کے تحت خون میں تبدیلی ہوتی ہے۔ انسان جو غذا اپنے جسم میں داخل کرتا ہے، وہ ایک پیچیدہ نظام کے تحت خون میں تبدیل ہوتی ہے۔ پھر یہ خون ایک اور پیچیدہ نظام کے تحت سارے جسم میں رگوں کے ذریعے مسلسل دوڑتا ہے۔
یہ بلاشبہ ربوبیت کے نظام کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ خون کا بننا، خون کا مسلسل گردش کرنا، اور خون کی صفائی کا انتظام وغیرہ، یہ سب چیزیں انسان کو خدا کی نعمتیں یاد دلاتی ہیں، اور وہ اللہ کے لیے سراپا شکر میں ڈھل جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں خون کا تصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک سرخ سیال ہے جو جسم کی طاقت کے لیے جسم کے اندر گردش کرتا رہتا ہے۔ پھر یہ دریافت ہوئی کہ خون دو قسم کے ذرات سے مل کر بنتا ہے: سرخ ذرات، یعنی ریڈ بلڈ کارپسلز، اور سفید ذرات، یعنی وائٹ بلڈ کارپسلز۔
اب یہ دریافت ہوئی ہے کہ خون میں اس کے سوا ایک اور خردبینی ذرہ ہوتا ہے، اس کو پلیٹلیٹس کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تیسرا ذرہ انسان کی زندگی اور صحت کے لیے بے حد اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خون ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت کا احساس آدمی کے اندر شکر و حمد کے چشمے جاری کر دیتا ہے۔
اس قسم کے بے شمار انتظامات ہیں جن کے اوپر انسان کی زندگی قائم ہے۔ یہ نظام براہِ راست خدا کی قدرت کے تحت قائم ہے، اور اسی کو قرآن میں ربوبیت کہا گیا ہے۔ یہ نظام ربوبیت تمام تر اللہ کی جانب سے قائم ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ربوبیت کے اس نظام سے واقفیت حاصل کرے، اور پورے معنوں میں اللہ کا شاکر بندہ بن کر اس دنیا میں رہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رب صرف اللہ ہے، اور اسی کی ربوبیت اس دنیا میں قائم ہے۔ سورہ نمبر 6، آیت 164۔ اسی طرح فرمایا کہ حکم صرف اللہ کا ہے، اور تمام چیزیں اسی کے زیرِ حکم ہیں۔ سورہ نمبر 12، آیت 40۔
یہ دونوں الفاظ، یعنی رب اور حکم، اللہ کی ذات کی نسبت سے قرآن میں آئے ہیں۔ اس کا کچھ بھی تعلق سیاسیات یا معاشیات سے نہیں ہے، مگر موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ انہوں نے مذکورہ الفاظِ قرآن کو نقل کیا۔ مگر موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ انہوں نے مذکورہ الفاظ قرآن سے لیے اور اس کے اندر اپنے خود ساختہ مفہوم کو شامل کر دیا۔ یہ گویا کہ رب اور حکم کے لفظ کو سیاسی بنانا، یعنی پولیٹیسائزیشن، تھا۔
قرآنی الفاظ میں اس قسم کا خود ساختہ مفہوم شامل کر کے انہوں نے یہ اعلان کیا کہ مسلمان کا یہ مشن ہے کہ وہ دنیا میں نظام ربوبیت یا نظام حاکمیت قائم کرے۔ یہ بلاشبہ ایک غیر علمی بات ہے۔ اس کی غلطی اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ بداہتاً ہی قابلِ رد ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 42۔