← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sab kuch khuda ka atiyya
Urdu · 8 min
سب کچھ خدا کا عطیہ۔ 1938 میں عرب میں پیٹرولیم کی دریافت ہوئی، اس کے بعد عربوں کی زندگی کا نقشہ بدل گیا۔ ایک عرب بدو کا واقعہ ہے: وہ پہلے معمولی خیمے میں رہتا تھا، اس کی زندگی کا انحصار تمام تر اونٹ کے اوپر تھا۔ پھر اچانک اس کے پاس پٹرول کی دولت آ گئی۔
اس کے ایک دوست نے اس کے لیے سوئٹزرلینڈ میں جدید طرز کا ایک شاندار مکان خریدا۔ عرب بدو ہوائی جہاز سے سفر کر کے وہاں پہنچا، اور اپنے خوبصورت مکان کو دیکھا تو اس کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ اسی کا مکان ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنے مکان کی دیوار اور اس کے فرنیچر کو ہاتھ سے چھو کر دیکھتا تھا کہ وہ سچ مچ اپنے مکان میں ہے، یا وہ خواب میں کوئی تصوراتی محل دیکھ رہا ہے۔
بہت دیر کے بعد جب اس کو یقین ہوا کہ یہ ایک حقیقی مکان ہے، اور وہ اسی کا اپنا مکان ہے، تو وہ خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ سجدے میں گر پڑا اور دیر تک اسی حالت میں پڑا رہا۔ یہ کیفیت جو ایک عرب بدو کے اوپر گزری، یہی کیفیت ہر انسان کے اوپر بہت زیادہ بڑے پیمانے پر گزرنا چاہیے۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا کی صورت میں ہر انسان کو وہی چیز ملی ہوئی ہے جو عرب بدو کو سوئٹزرلینڈ کے مکان کی صورت میں ملی۔ سوئٹزرلینڈ کا مکان عرب بدو کے لیے جتنا عجیب تھا، اس سے بے شمار گنا زیادہ عجیب موجودہ کائنات ہے، جو کوئی قیمت ادا کیے بغیر ہر انسان کو ہر لمحہ ملی ہوئی ہے۔
ہر انسان کا کیس مزید اضافے کے ساتھ وہی ہے جو مذکورہ عرب بدو کا کیس تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کامل طور پر عاجز اور محروم انسان ہے۔ اس فطری حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو" (سورہ نمبر 35 آیت 15)۔
پھر اس کو موجودہ دنیا کی صورت میں سب کچھ دے دیا جاتا ہے۔ فطرت اپنے تمام خزانوں کے ساتھ تاحیات اس کی خدمت گزار بن جاتی ہے۔ انسان کا پیدا ہونا ایک حیرت ناک عجوبہ ہے۔ انسان اگر اپنے بارے میں سوچے تو وہ ایک ایک چیز پر دہشت زدہ ہو کر رہ جائے گا۔
ایک ایسا انسان جو زندگی رکھتا ہے، جس کے اندر دیکھنے اور سننے کی صلاحیت ہے، جو سوچتا ہے اور چلتا ہے، جو منصوبہ بناتا ہے اور اس کو اپنے حسبِ منشا عمل میں لاتا ہے، یہ سب اتنی زیادہ انوکھی صفات ہیں جو انسان کو اپنے آپ بلا قیمت ملی ہوئی ہیں۔ انسان اگر اس پر سوچے تو وہ شکر کے احساس میں ڈوب جائے۔ پھر یہ دنیا جس کے اندر انسان رہتا ہے، وہ حیرت ناک حد تک ایک موافق انسان دنیا ہے۔ زمین جیسا کرہ ساری وسیع کائنات میں کوئی دوسرا نہیں۔
یہاں پانی ہے، یہاں سبزہ ہے، یہاں ہوا ہے، یہاں دھوپ ہے، یہاں کھانے کا سامان ہے، اور دوسری ان گنت چیزیں خالق کے ایک طرفہ عطیے کے طور پر موجود ہیں۔ یہ چیزیں زمین کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔ اگر آدمی اس حقیقت کو سوچے تو وہ مذکورہ عرب بدو کی طرح شکر کے احساس سے سجدے میں گر پڑے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔
اس کا سبب یہ ہے کہ انسان دنیا کی چیزوں کو for granted لیے رہتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہے اس کو ہونا ہی چاہیے۔ جو کچھ اس کو ملا ہوا ہے، وہ اس کو ملنا ہی چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اپنے شعور کو زندہ کرے۔ وہ بار بار سوچ کر اس حقیقت کو سمجھے کہ وہ سرتاپا ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ مکمل طور پر خدا کے دینے سے ملا ہے۔ خدا اگر نہ دے تو اس کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔
جو چیزیں انسان کو بظاہر اپنے آپ مل رہی ہیں، ان کو وہ اس طرح لے جیسے کہ وہ ہر وقت براہِ راست خدا کی طرف سے بھیجی جا رہی ہیں۔ وہ ملی ہوئی چیزوں کو دی ہوئی چیزوں کے طور پر دریافت کرے۔ خدا کا مطلوب انسان وہ ہے جو اپنے ذہن کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ وہ بظاہر اسباب کے تحت ملنے والے سامانِ حیات کو بلا اسباب خدا کی طرف سے ملا ہوا سمجھے۔ وہ معمول یعنی usual کو خلافِ معمول یعنی unusual کے طور پر دیکھ سکے۔
وہ غیب کو شہود کے درجے میں دریافت کرے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میں خدا کا دیدار نصیب ہوگا، اور یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے پڑوس میں بنائی جانے والی ابدی جنت میں جگہ پائیں گے۔ تعمیرِ شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔