شکر کا احساس: اگر آپ لذیذ کھانا کھائیں اور اس کو کھا کر لِپ سروس کے طور پر "الحمدللہ" کہیں، تو یہ حیوانی درجے کا شکر ہے، کیونکہ یہ مشاہدہ اور ذائقے پر مبنی ہے۔ اور مشاہدہ اور ذائقے کے درجے کا شکر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے، وہ اعلیٰ انسانی درجے کا شکر نہیں۔ اعلیٰ درجے کا شکر یہ ہے کہ جب کھانا آپ کے سامنے آئے تو اس کو دیکھ کر خدا کا پورا تخلیقی نظام آپ کو یاد آ جائے۔ آپ سوچیں کہ یہ تمام غذائی چیزیں پہلے غیر غذائی چیزیں تھیں؛ خدا نے ایک برتر عمل، یعنی پروسیس کے ذریعے، ایک عظیم واقعہ برپا کیا۔
وہ تھا غیر غذا، یعنی نان فوڈ کو غذا، یعنی فوڈ میں تبدیل کرنا۔ اس طرح ایک کائناتی عمل کے ذریعے یہ تمام غذائی چیزیں وجود میں آئیں۔ پھر آپ یہ سوچیں کہ یہ غذائی چیزیں اپنی ابتدائی صورت میں میرے لیے توانائی، یعنی انرجی، کا ذریعہ نہیں ہو سکتی تھیں۔ چنانچہ خدا نے مزید یہ کیا کہ اس نے میرے جسم کے اندر ایک پیچیدہ قسم کا نظامِ ہضم، یعنی ڈائجسٹو سسٹم، رکھ دیا۔
یہ نظامِ ہضم ایک خودکار نظام ہے؛ جب میں کوئی چیز کھاتا ہوں تو یہ نظامِ ہضم ان غذائی چیزوں کو حیرت انگیز طور پر زندہ خلیات، یعنی لیونگ سیلز، میں تبدیل کر دیتا ہے۔ پھر یہ زندہ خلیات میرے جسم میں گوشت اور خون جیسی چیزوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہ سوچ کر آپ کے اندر شکر کا گہرا احساس پیدا ہوگا، جس کو الفاظ میں ظاہر کرنے کے لیے آپ خود کو عاجز پائیں گے۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی شکر کیا ہے اور حیوانی شکر کیا؟
اگر آپ کے اندر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے تو آپ ہمیشہ ناشکری کے احساس میں جیئیں گے۔ شکر کے اعلیٰ احساس میں جینے کے لیے انسانی درجے کا جذبۂ شکر درکار ہے، مگر یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ کم پائی جاتی ہے۔ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِي الشَّكُورِ سورہ نمبر 34، آیت 13۔ یعنی: اور میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔
انسان سے اللہ تعالیٰ کو جو شکر مطلوب ہے، وہ انسانی درجے کا شکر ہے۔ صرف حیوانی درجے کا شکر انسان جیسی مخلوق سے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 45۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.