Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Tameer-e-kheesh ka tareeqa

Urdu · 6 min

تعمیر خیش کا طریقہ: قرآن کی سورہ آل عمران میں ایک اصول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا» سورہ نمبر 3، آیت 120۔ یعنی: اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو، تو دوسروں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ قرآن کی یہ آیت فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں سازش کا ہونا اصل مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ صبر اور تقویٰ کا نہ ہونا ہے۔

جن لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہو، ان کے لیے دوسروں کی سازش اور دشمنی غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گی۔ وہ ان کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ صبر کوئی انفعالی صفت نہیں۔ صبر کا مطلب وہ اعلیٰ انسانی صفت ہے جس کو سیلف کنٹرول کہا جاتا ہے، یعنی دوسروں کے پیدا کردہ مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچنا، اور خود اپنی مثبت سوچ کے تحت اپنی زندگی کا منصوبہ بنانا۔

تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی سوچ خود رخی سوچ، یعنی سیلف اورینٹڈ تھنکنگ نہ ہو، بلکہ وہ خدا رخی سوچ، یعنی گاڈ اورینٹڈ تھنکنگ ہو۔ سماج کے اندر اس کا سلوک خدا کی تعلیمات کے مطابق ہو، نہ کہ اپنی خواہشات اور جذبات کے مطابق۔ جو لوگ صبر اور تقویٰ کی اس روش کو اختیار کریں، ان کے خلاف دوسروں کی منفی کارروائیاں اپنے آپ بے اثر ہو جائیں گی۔ کیونکہ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ کوئی بھی غیر مطلوب واقعہ ہمیشہ دو طرفہ کارروائی کے نتیجے میں پیش آتا ہے، نہ کہ صرف ایک طرفہ کارروائی کے نتیجے میں۔

یہ فطرت کا ایک قانون ہے کہ کوئی شخص یا گروہ معتدل ذہن کے تحت کسی کے خلاف کوئی مخالفانہ کارروائی نہیں کرتا۔ ایک شخص یا گروہ کسی دوسرے کے خلاف کوئی منفی کارروائی صرف اس وقت کرتا ہے جبکہ اس کو بھڑکا دیا گیا ہو۔ ہر منفی کارروائی کسی اشتعال انگیز کارروائی کے نتیجے میں جوابی طور پر پیش آتی ہے۔ صبر اور تقویٰ آدمی کو اس سے روکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص یا گروہ کے خلاف اشتعال انگیز کارروائی کرے۔

یہی وجہ ہے کہ صبر اور تقویٰ کسی شخص یا گروہ کے لیے حفاظت کا یقینی ذریعہ ہے۔ ایسا شخص یا گروہ کسی بھی حال میں دوسرے کو مشتعل کرنے والا کام نہیں کرے گا۔ اس لیے فطری طور پر وہ دوسرے کی طرف سے پیش آنے والی جوابی کارروائی سے بھی محفوظ رہے گا۔ یہ فطرت کا قانون ہے جس کو خود خالقِ فطرت نے مقرر کیا ہے۔

ایسی حالت میں سازش کے خلاف چیخ و پکار کرنا ایک بے فائدہ کام ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو داخلی طور پر مستحکم بنایا جائے۔ خود اپنے اندر زیادہ سے زیادہ صبر اور تقویٰ کی سپرٹ پیدا کی جائے۔ اس کے بعد شکایت کے اسباب اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے کہ وہ تھے ہی نہیں۔

خدا کے تخلیقی پلان، یعنی کریشن پلان، کے مطابق زندگی میں ہمیشہ دو مختلف قسم کی چیزیں موجود رہتی ہیں: مسائل، یعنی پرابلمز، اور مواقع، یعنی اپرچونیٹیز۔ جس طرح زندگی میں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں، اسی طرح زندگی میں ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں دانشمندی کا طریقہ اسلام کے مطابق یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع کو استعمال کیا جائے۔ مسائل سے الجھنا صرف اس وقت کو ضائع کرنا ہے جو اس دنیا میں ہم کو زندگی کی مثبت تعمیر کے لیے ملا ہوا ہے۔

یہی دانشمندی ہے اور یہی اسلام کا طریقہ بھی۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 14۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.