Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Zindagi ki tameer

Urdu · 4 min

زندگی کی تعمیر: ہر انسان جو اس دنیا میں آتا ہے، وہ خالق کی طرف سے ایک منفرد صلاحیت، یعنی unique quality، لے کر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ہر انسان ایک غیر معمولی دماغ، یعنی mind، لے کر آتا ہے۔ ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال کر کے اپنی صلاحیت کو دریافت کرے، اور دانشمندانہ planning کے تحت اپنے potential کو واقعہ، یعنی actual، بنائے۔ ہر آدمی کامیابی کے ساتھ اس کو انجام دے سکتا ہے، بشرطیکہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے ذہن کو استعمال کرے۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو supporting system کہا جا سکتا ہے۔ فطرت کے مطابق یہ ہونا چاہیے کہ سماج کا نظام مکمل طور پر merit کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ مبنی بر merit سماج، یعنی merit-based society، کے اندر فطری طور پر ایک موافق عمل قائم ہو جاتا ہے، جس کو automatic channelization کہا جا سکتا ہے۔ اس عمل، یعنی process، کے دوران اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی آخر کار اپنی اس استثنائی خصوصیت کو دریافت کر لیتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا تھا۔

اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر اس بات کا طاقتور محرک پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سماج میں امتیازی درجہ حاصل کرے۔ یہ داخلی spirit اپنا کام کرتی ہے: آدمی نے اگر غلط choice لے لیا ہے تو وہ اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے choice کو بدلے، اور اس choice کو لے جس میں وہ بہتر، یعنی excel، کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس داخلی spirit کے ساتھ سماج کے اندر مبنی بر merit نظام شامل ہو جائے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنے اس خصوصی role کو پا لیتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا تھا۔ یہی زندگی کی تعمیر کا فطری طریقہ ہے۔

کسی خود ساختہ طریقے سے اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا، خواہ بظاہر وہ کتنا ہی زیادہ خوشنما معلوم ہوتا ہو۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 13۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.