Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

La Qanuniyat ka Masalah

Urdu · 10 min

لاقانونیت کا مسئلہ۔ مارچ 1988 کی 12 تاریخ ہے، اور صبح 8 بجے کا وقت۔ میرے دفتر، نئی دہلی سے متصل پارک میں، رنگ برنگ کے پھول نہایت حسین منظر پیش کر رہے ہیں۔ اتنے میں کالونی کی ایک خوش پوش عورت پارک میں داخل ہوتی ہے، وہ پھول توڑنا چاہتی ہے۔

مالی اس کو منع کرتا ہے، مگر وہ باز نہیں آتی۔ وہ اپنے کچھ پسندیدہ پھولوں کو توڑ کر ہاتھ میں لے لیتی ہے، اور باہر سڑک پر آ کر فاتحانہ انداز میں کہتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے باپ کا پارک ہے۔ ہم پھول توڑیں گے، دیکھیں کون ہم کو روکتا ہے پھول توڑنے سے۔ یہ چھوٹا سا واقعہ اس ہندوستان کی تصویر پیش کرتا ہے جس کو آزاد ہندوستان کہا جاتا ہے۔

آزاد ہندوستان دراصل لاقانونی ہندوستان کا دوسرا نام ہے۔ آج ملک کے جس شعبے کو دیکھیے، ہر جگہ لاقانونیت ہے۔ سرکاری دفتروں سے لے کر سڑک کی ٹریفک تک، تعلیمی اداروں سے لے کر سیاسی پارٹیوں تک، ملک کا کوئی بھی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں خانون کا احترام پایا جاتا ہو۔ اپنے ذاتی مفاد کے سوا اور کوئی چیز نہیں جس کو لوگ جانتے ہوں۔

اپنی ذاتی انا کے سوا اور کوئی چیز نہیں جس کا لحاظ کرنے کی ضرورت انہیں محسوس ہوتی ہو۔ خانون کی پابندی کرنے والے شہری، یعنی Law Abiding Citizen نام کی کوئی چیز جدید ہندوستان میں نہیں پائی جاتی۔ اس تاثر کے تحت آج جب میں نے دہلی کے اخبارات پڑھے تو مجھے محسوس ہوا کہ اس لاقانونیت کا ڈنڈا دراصل ڈانڈی مارچ سے ملتا ہے۔ آج 12 مارچ 1988 کے اخبارات نے ڈانڈی مارچ کے واقعے کی تفصیلات نمایاں طور پر شائع کی ہیں۔

ڈانڈی مارچ کیا تھا؟ وہ گویا قانون شکنی کی طرف اکابر قوم کا مارچ تھا۔ قانون شکنی کو گلوریفائی کرنے کے ہم معنی تھا۔ اور جب کسی قوم میں ایک بار خانون شکنی کی روایت قائم کر دی جائے تو پھر وہ کسی حد پر نہیں رکتی۔

ڈانڈی مارچ ہندوستان کی تاریخِ آزادی کا مشہور واقعہ ہے۔ یہیں سے مہاتما گاندھی کی سول نافرمانی، یعنی سول ڈس اوبیڈینس، کا آغاز ہوتا ہے۔ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں برٹش راج کے خلاف عوامی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ لوگ بے خوف ہو کر انگریز حکمرانوں کو ہر جگہ چیلنج کرنے لگے۔

انگریزی خانون کو توڑنا قومی ہیرو بننے کے ہم معنی ہو گیا۔ ایک سال کے اندر 60,000 آدمی خوشی خوشی جیل چلے گئے، وغیرہ۔ مہاتما گاندھی 12 مارچ 1930 کو صابر متی آشرم سے پیدل روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ 79 آدمی تھے، انہوں نے 241 میل کا سفر 24 دن میں طے کیا، اور 5 اپریل 1930 کو ساحلِ سمندر پر پہنچے۔

انہوں نے وہاں ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر نمک حاصل کر کے خانون شکنی کے عمل کا آغاز کیا۔ اس پورے راستے میں گاندھی جی کو اطراف کی بستیوں سے اتنا زبردست استقبال ملا جو کسی بادشاہ کے لیے بھی قابلِ رشک ہو سکتا تھا۔ مہاتما گاندھی ایک ہیرو کی مانند صابر متی سے ڈانڈی پہنچے۔ وہاں انہوں نے 5 اپریل 1930 کو اپنے قلم سے لکھا کہ "میں طاقت کے خلاف حق کی اس جنگ کے لیے عالمی ہمدردی چاہتا ہوں۔

" "I want world sympathy in this battle of right against might." 12 مارچ 1988 عیسوی کے دہلی کے اخبارات میں ڈانڈی مارچ کے بارے میں اس قسم کی مختلف تفصیلات شائع ہوئی ہیں۔ ان کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ 60 برس پہلے مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھی یہ سمجھتے تھے کہ ملک کا اصل مسئلہ ملک سے برٹش راج کو ختم کرنا ہے۔ مگر اس واقعے کے 60 برس بعد دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اصل مسئلہ برٹش راج کو ختم کرنا نہیں تھا، بلکہ نفسانی راج کو ختم کرنا تھا۔ برٹش راج ختم ہو گیا، مگر نفسانی راج مزید شدت کے ساتھ باقی ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ پورا ملک پہلے سے بھی زیادہ بے امنی اور بدعنوانی کا نمونہ بنا ہوا ہے۔ موجودہ ہندوستان میں کسی شریف اور بااصول آدمی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس کے لیے موجودہ ہندوستان میں زیادہ رہنا ایسا ہی ہے جیسا کانٹوں کے فرش پر زندہ رہنا۔ مہاتما گاندھی کے ساتھ ڈانڈی مارچ 1930 کے قافلے میں جو لوگ شریک تھے، ان میں سے کچھ افراد بوقتِ تحریر زندہ ہیں۔

ان میں سے ایک مسٹر کپل پرساد دیو ہیں، جن کی عمر اب 88 سال ہو چکی ہے۔ گاندھی گاندھی نگر میں انہوں نے ہندوستان ٹائمز 12 مارچ 1988 کے نامہ نگار مسٹر اشوک ویاس سے ماضی کی یادوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ "ہمارا قافلہ جب چلتے ہوئے سورت پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے ڈانڈی مارچ والوں کے لیے ایک پرتکلف لنچ کا انتظام کیا۔ " لوگ شوق سے اس دعوت میں شریک ہوئے اور خوب سیر ہو کر کھایا پیا۔ جب گاندھی جی کو اس کا علم ہوا تو وہ بہت پریشان ہوئے۔

اس سفر کے دوران ہر شام کو وہ مجلس کرتے تھے۔ اس روز شام کی مجلس میں انہوں نے کہا "I think I have committed a Himalayan blunder in selecting the Satyagraha satyagrahis for this Kuch, when majority of the countrymen could not get a Bajra roti and chutney or union. Could you think of taking such lavish lavish lunch? " میرا خیال ہے کہ میں نے ستیہ گرہیوں کو کوچ کے لیے منتخب کر کے ہمالیہ پہاڑ کے برابر غلطی کی ہے۔

ملک کے باشندوں کی اکثریت کو کھانے کے لیے باجرے کی ایک روٹی اور چٹنی یا پیاز بھی نہیں ملتی۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں نے کیوں یہ سوچا کہ آپ ایسا پرتکلف کھانا کھائیں؟ مہاتما گاندھی اگر آج زندہ ہوتے تو یقیناً وہ محسوس کرتے کہ سورج کی سورت کی پرتکلف دعوت کو قبول کرنے سے زیادہ بڑی غلطی خود ڈانڈی مارچ کا فیصلہ تھا، جو قانون شکنی یا سول نافرمانی، یعنی سول ڈس اوبیڈینس، کے طور پر زیرِ عمل لایا گیا تھا۔ جدید ہندوستان میں سب سے پہلی ہمالیائی غلطی یہ تھی کہ انگریزوں کے خلاف نافرمانی کے طریقے پر عمل کر کے خانون شکنی کی روایت قائم کی گئی۔

کسی ملک کے اکابر جب ایک بار خانون کے احترام کی روایت کو توڑ دیں اور خانون شکنی کو مقدس عمل، مقدس قومی عمل کی حیثیت سے رائج کریں، تو اس کے بعد ملک کو لاقانونیت، یعنی لالیسنس، کی طرف جانے سے روکا نہیں جا سکتا۔ اور آزادی کے بعد کا ہندوستان، جہاں لاقانونیت ہی کا نام خانون ہے، بلاشبہ اس غلطی کا نتیجہ ہے جس کا آغاز 60 سال پہلے تمام اکابر قوم کو متفقہ منظوری سے کیا گیا تھا۔ مہاتما گاندھی نے 1947 سے پہلے برٹش راج کو ختم کرنے کے لیے تحریک چلائی تو سارا ہندوستان ان کے ساتھ ہو گیا۔ وہ ملک کے ہیرو بن گئے۔

مگر اسی مہاتما گاندھی نے 1947 کے بعد نفسانی راج کو ختم کرنے کی مہم شروع کی تو انہیں آزاد ہندوستان کے عین قلب میں گولی مار کر ختم کر دیا گیا۔ احتسابِ غیر کے عنوان پر لیڈر بننا کتنا آسان ہے، اور احتسابِ خویش کے عنوان پر لیڈر بننا کتنا مشکل۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 196۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.