Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Tameer-e-Qaum ki Zarurat

Urdu · 7 min

تعمیرِ قوم کی ضرورت۔ 30 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کا قتل ہوا تو اس وقت میں اعظم گڑھ میں تھا۔ اگلے دن شہریوں کی طرف سے ایک جلسہ ہوا، جس میں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ مقامی ایس کے پی کالج کے ہندو پرنسپل نے اس موقع پر جو تقریر کی تھی اس موقع پر جو تقریر کی تھی وہ اب تک مجھے یاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے واقعے پر مختلف اخبارات نے اپنے اپنے انداز میں سرخی لگائی ہے، مگر مجھے امرت بازار پتریکا کی سرخی سب سے زیادہ پسند آئی جو اس طرح تھی: "Gandhi sacrificed by fanaticism" یعنی گاندھی جنونیوں کے ہاتھوں ہلاک۔ اس میں شک نہیں کہ مہاتما گاندھی کے حادثے کے بارے میں یہ صحیح ترین سرخی تھی۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں دو رجحانات کا مقابلہ تھا: گاندھی ازم اور فیناٹسزم۔ اس مقابلے میں فیناٹسزم کو کامیابی ہوئی، گاندھی ازم ناکام ہو کر رہ گیا۔

ملک کی تقسیم بلاشبہ غلط تھی، مگر اس سے بھی زیادہ غلط بات یہ تھی کہ تقسیم کے بعد لوگ اس کے ردعمل سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد ہندوؤں کی ایک جماعت مہاتما گاندھی کی سخت مخالف ہو گئی۔ اس نے مہاتما گاندھی کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اولاً، مدن لال نے مہاتما گاندھی پر دستی بم پھینکا، مگر وہ نشانے پر نہیں پہنچا، نہیں پہنچ سکا۔

اس کے بعد اس کے ساتھی ناتھورام گوٹسے نے پستول کی گولی سے مہاتما گاندھی کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد 9 آدمیوں پر مقدمہ چلایا گیا، جو 6 ماہ سے زیادہ مدت تک جاری رہا۔ اس موقع پر بیان دیتے ہوئے مدن لال نے جو کچھ کہا تھا، ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس کو اس بات کا غصہ تھا کہ مہاتما گاندھی کے اصرار پر ہندوستانی حکومت نے پاکستان کو اس کے حصے کا 55 کروڑ روپیہ دے دیا۔ اس واقعے نے گوٹسے کو مشتعل کر دیا۔

مدن لال said, "He was angered by the Indian Union's payment of 55 crore rupees to Pakistan. " 55 crore rupees to Pakistan. This exasperated Gotse. Louis Fuster, The Life of Mahatma Gandhi, Harper and Raw Republishers, 1983, New York, page 504.

آزادی کے بعد صرف ساڑھے چار مہینے کے اندر پیش ہونے والا یہ واقعہ ملک کے لیے ایک چیلنج تھا۔ وہ مہاتما گاندھی کے بتائے ہوئے اصول پر چلے کہ قوم پرست جنونیوں کے آگے جھک جائے۔ ملک کی قیادت نے ابتداً یہ فیصلہ کیا کہ اس کو مہاتما گاندھی کے بتائے ہوئے اصولی راستے پر چلنا ہے۔ چنانچہ اس کے مطابق ملک کا دستور بنایا گیا، اور 26 جنوری 1956 کو اس کے باقاعدہ نفاذ کا اعلان کر دیا گیا۔

اب بظاہر ملک کے مستقبل کی تعمیر دستور ہند کی رہنمائی میں ہونی چاہیے تھی، مگر یہاں ایک رکاوٹ پیش آ گئی۔ دستور ساز اسمبلی کے ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس کی چھت کے نیچے بیٹھ کر جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا، وہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں پر نہ لکھا جا سکا۔ کاغذی دفعات کے مطابق ملک کا مذہب سیکولرزم تھا، مگر عوامی رجحان کے مطابق ملک کا مذہب بدستور فیناٹسزم یعنی مجنونانہ قوم پرستی بنا رہا۔ اس تضاد کا اظہار پچھلی تقریباً نصف صدی کے دوران مختلف صورتوں میں ہوتا رہا ہے۔

یہ صورتحال ملک کے لیڈروں کے لیے سخت آزمائش تھی۔ کاغذ کے اوپر خوبصورت دفعات لکھنے کے لیے بازار کی سیاہی کافی ہے، مگر زندگی میں ان دفعات کے عملی نفاذ کے لیے اس قربانی کی ضرورت تھی جس کو ڈیگال کے نام پر گالزم کہا جاتا ہے۔ ہمارے لیڈروں نے پہلا کام تو کیا، مگر وہ دوسرا کام نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ دستور ہند کے الفاظ ملک کی حقیقی زندگی میں واقعہ نہ بن سکے۔

ملک میں جو دستور بنایا گیا تھا، وہ حقیقتاً ارکان اسمبلی کی سطح پر بنایا گیا تھا۔ وہ وسیع تر سطح پر عوامی رجحانات کا نمائندہ نہ تھا۔ اس لیے بہت جلد دونوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آ گیا۔ دستور کے الفاظ شہریوں کے درمیان مساوات کا اعلان کر رہے تھے، مگر ملکی عوام تعصب اور امتیاز کے راستے پر چلتے رہے۔

دستور کے الفاظ ہر ایک کے لیے یکساں انصاف کی ضمانت دے رہے تھے، مگر عوامی رجحان کا تقاضا تھا کہ اپنوں کے ساتھ ایک سلوک کیا جائے اور غیروں کے ساتھ دوسرا سلوک۔ یہاں ملکی حکمرانوں کو دستور کا ساتھ دینا تھا، نہ کہ عوامی خواہشات کا۔ مگر انہوں نے دیکھا کہ اگر وہ دستور ہند کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں تو وہ اپنے حق میں عوام کی سیاسی حمایت کھو دیں گے۔ اگلے الیکشن کے موقع پر انہیں عوام کا ووٹ حاصل نہ ہو سکے گا۔

وہ عوامی خواہشات کے آگے جھک گئے اور دستور کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اگرچہ دستور وہی تھا جس کے ساتھ وفاداری کا حلف لے کر وہ حکومت کے ایوان میں داخل ہوئے تھے، حکومت کے ایوان میں داخل ہوئے تھے۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 199۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.